اسلام آباد(نیوزڈیسک)مسلم مسیحی اتحاد اور سیویئر پاکستان کےسربراہورلڈ مینارٹیز الائنس کے کنوینئر سابق وفاقی وزیر جے سالک نے عالمی برادری پرزور دیا ہے کہ وہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھاتے ہوئے اپنا موثر کردار ادا کریں اور اسرائیل کو عبادت گاہوں، ہسپتالوں، سکولوںپر حملوں سے باز رکھیں کیونکہ اقوام متحدہ کے منشور میں اس بات کی قطعی اجازت نہیں ہے،انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں اپنی رہائشگاہ پر ہونے والی پریس کانفرنس کے موقع پر کیا،جے سالک کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ امریکہ کے زیر اثر ایک سلاٹر ہاؤس ہے جس سے دنیا بالخصوص مسلم امہ کو زیادہ توقعات نہیں رکھنی چاہئیں،پاکستان کی تمام اقلیتوں کو فلسطین اسرائیل جنگ بندی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے جبکہ حکومت پاکستان کو جنگ بندی کے حوالے سے فوری طور پر اے پی سی بلانی چاہیئے تاکہ پوری پاکستانی قوم کی طرف سے ایک جامع اور مشترکہ مضبوط موقف اپنایا جاسکے،جے سالک نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جب تک جنگ بندی پر عملدرآمد نہ ہوجائے پاکستانی قوم کی طرف سے مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے قومی پرچم کو سرنگوں رکھا جائے،اگر اس جنگ نے بڑھتے ہوئے تیسری عالمی جنگ کا روپ دھار لیا تو فلسطین اور اسرائیل کے علاوہ مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا پر اسکے گہرےاثرات مرتب ہوسکتے ہیںلہذاٰ اس جنگ کو فوری طور پر رکوانے کیلئے عالمی برادری کوآگے بڑھ کر اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔















