اسلام آباد ( نیوز ڈیسک)نیلم جہلم پراجیکٹ کی ٹنل بلاکج کے معاملے کی پینل آف ایکسپرٹس نے11 وجوہات بتائی ہیں، انٹیرم رپورٹ دے دی گئی ہے،دو ماہ کے اندر رپورٹ فائنل ہو جائے گی، سیکرٹری آبی وسائل کی قومی اسمبلی کی کمیٹی کو بریفنگ،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا قائم مقام چیئرمین کمیٹی میرغلام علی تالپور کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں نیلم جہلم منصوبے کے ٹنل میں بلاکج سے متعلق معاملہ زیر غور آیا،رکن اسمبلی شگفتہ جمانی نے استفسار کیا کہ منصوبے کی مرمت کے لئے کب تک کام شروع ہو گا،کتنی لاگت آئے گی،کہا گیا تھا کہ چھ ماہ میں کام مکمل کرلیا جائے گا، میرے سوال کو ایک مہینہ گزر چکا ہے، سی ای او نیلم جہلم پراجیکٹ نے کمیٹی کو بتایا وزیراعظم کی ہدایت پر پانچ رکنی ٹیم بنائی گئی،ان کی رپورٹ فائنل نہیں ہوئی،پندرہ جنوری کو ٹیم کا اگلا دورہ ہوگا،2019 میں کنٹریکٹ کے مطابق ٹنل کو ڈی واٹرکرکے کی انسپکشن کی گئی تھی،چار سال سے ٹنل چل رہی تھی ، سیکرٹری آبی وسائل نے کمیٹی کو بتایا پینل آف ایکسپرٹس نے11 وجوہات بتائی ہیں اور انہوں نے انٹیرم رپورٹ دے دی،منصوبے کی کل پیداوار 969 میگاواٹ تھی،اگر ٹنل چل رہی ہوتی تو اس موسم میں 100 میگاواٹ بجلی سسٹم کو ملتی،15 جنوری کو ٹیم آئے گی دو ماہ کے اندر رپورٹ فائنل ہو جائے گی۔















