اسلام آباد ( اے بی این نیوز )قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی دور میں لیے گئے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی تفصیلات پیش کر دی ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت نے 4 سال کے دوران ملکی اور غیر ملکی اداروں سے 24 ہزار 242 ارب قرض لیا،پی ٹی آئی دور میں ملکی اداروں سے ساڑھے 14 ہزار 621 ارب جبکہ غیر ملکی اداروں سے ساڑھے 9 ہزار ارب سے زائد قرض لیا گیا۔پی ٹی آئی دور میں مجموعی مالیاتی خسارہ 16 ہزار 430 ارب رہا،قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی دور میں لیے گئے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی تفصیلات پیش کر دی ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت نے 4 سال کے دوران ملکی اور غیر ملکی اداروں سے 24 ہزار 242 ارب قرض لیا،پی ٹی آئی دور میں ملکی اداروں سے ساڑھے 14 ہزار 621 ارب جبکہ غیر ملکی اداروں سے ساڑھے 9 ہزار ارب سے زائد قرض لیا گیا۔پی ٹی آئی دور میں مجموعی مالیاتی خسارہ 16 ہزار 430 ارب رہا،گزشتہ حکومت نے ساڑھے 12 ہزار کل محصولات کے برعکس 31 ہزار ارب اخراجات کیے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وزارت خزانہ نے بتایا تھا کہ قرض معاہدے میں التوا کی وجہ بین الااقومی اور پاکستان کی سیاسی صورتحال ہے،پاکستان کو 1998جیسے دباؤکا سامنا ہے۔پاکستان کو 1998میں ایٹمی دھماکوں کے بعد بھی ایسے ہی دباؤ کا سامنا تھا۔وزارت خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف بجٹ میں ایسے اہداف چاہتا ہے جن سے انحراف نہ ہو سکے۔ قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ فی الوقت مقابلہ کا امتحان (سی ایس ایس) اردو زبان میں منعقد کرانے کا کوئی منصوبہ زیرغور نہیں ہے جبکہ ارکان نے مقابلے کا امتحان قومی زبان میں منعقد کرانے کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں مولانا عبدالاکبر خان چترالی اور دیگر کے سی ایس ایس کے امتحانات اردو میں منعقد کرانے سے متعلق توجہ مبذول نوٹس پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ اس طرح کا سوال سینیٹ میں بھی اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقابلہ کا امتحان وفاقی حکومت ایچ ای سی اور یونیورسٹیز کی معاونت سے منعقد کراتا ہے۔ یونیورسٹی میں مضامین انگریزی زبان میں پڑھائے جاتی ہیں، ان کو اردو میں تبدیل کرنے میں بہت وقت لگے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فی الوقت مقابلہ کے امتحان کو اردو میں منعقد کرانے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ وزیر مملکت شہادت اعوان نے کہا ہے کہ ای او بی آ ئی کے تحت چار لاکھ لوگوں کو پنشن دیتے ہیںچارلاکھ 13 ہزار 183 لوگوں کو 8500 سے لیکر 21 ہزار تک پنشن دیتے ہیں،جولائی میں پنشن میں اضافہ کرنے جا رہے ہیں۔2008 میں دو ہزار،2010 میں تین ہزار اور جنوری 2020 کو 8500 روپے پنشن کی منظوری ہوئی،یہ پنشن عوام کے پیسے سے ہی ان کو فراہم کی جارہی ہے،382 کیسز ملک بھر کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں،یہ ادارہ ٹرسٹ کے طور پر چل رہاہے،جولائی میں پنشن میں اضافہ کرنے جا رہے ہیں,8500 روپے پنشن تین لاکھ 81 ہزار 849لوگوں کو مل رہی ہے۔قومی اسمبلی نےنیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد ( ترمیمی) بل 2023 اور این ایف سی انجینئرنگ و ٹیکنالوجی ملتان ( ترمیمی) بل 2023 کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی جبکہ انسداد نشہ آور اشیا ( ترمیمی) بل 2022 منظوری کیلیئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو بھجوادیاگیا۔اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی کا اجلاس 30مئی بروز منگل دن ایک بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔















