اہم خبریں

بیرون ملک پاکستانی ٹریڈ مشنز میں مقامی عملے کی بھرتی کے لیے نئی پالیسی تیار

اسلام آباد(رضوان عباسی)حکومت پاکستان نے بیرون ملک قائم پاکستانی ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ مشنز میں مقامی عملے (لوکل اسٹاف) کی بھرتی کے لیے نئی پالیسی گائیڈ لائنز تیار کر لی ہیں، جن کے تحت بھارتی اور اسرائیلی نژاد امیدواروں کو کسی صورت بھرتی کے لیے اہل قرار نہیں دیا جائے گا، جبکہ امیدواروں اور ان کے شریک حیات کی مکمل اسکریننگ لازمی قرار دی گئی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت بھرتی میں میزبان ملک کے شہریوں کو ترجیح دی جائے گی، تاہم پاکستانی نژاد ورک پرمٹ ہولڈرز کی تقرری پر بھی غور کیا جا سکے گا۔
وزارت تجارت نے نئی پالیسی گائیڈ لائنز پر مشتمل مراسلہ تمام ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفیسرز کو ارسال کر دیا ہے، جس کے مطابق لوکل اسٹاف کی ہر نئی بھرتی سے قبل وزارت تجارت سے پیشگی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ مقامی عملے کی تقرری صرف منظور شدہ آسامیوں پر کی جا سکے گی، جبکہ تنخواہوں اور مراعات کا تعین ڈپلومیٹک ونگ کے مقررہ پے اسکیل کے مطابق کیا جائے گا۔ غیر معمولی حالات میں مارکیٹ سروے اور بھرتی کی وجوہات پیش کرنا بھی ضروری ہوگا۔
پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق بھرتی کے امیدوار کے لیے کسی مستند یونیورسٹی سے گریجویشن لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ ٹریڈ سے متعلقہ تجربہ رکھنے والے امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی۔ وزارت کی منظوری کے بعد متعلقہ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفیسر سلیکشن کمیٹی تشکیل دے گا، جو تحریری امتحان اور انٹرویو کے ذریعے امیدواروں کا انتخاب کرے گی۔ انتخابی عمل کے بعد تین کامیاب امیدواروں پر مشتمل پینل حتمی منظوری کے لیے وزارت تجارت کو بھجوایا جائے گا۔
نئی پالیسی کے تحت منتخب لوکل اسٹاف کا ابتدائی کنٹریکٹ ایک سال کے لیے ہوگا، جس میں پہلے 90 دن آزمائشی مدت (پروبیشن) کے طور پر شامل ہوں گے۔ ملازم کی کارکردگی کی بنیاد پر کنٹریکٹ میں سالانہ توسیع کی جا سکے گی، تاہم کسی بھی ملازم کو زیادہ سے زیادہ تین سال تک تعینات رکھا جا سکے گا۔ اس دوران ہر سہ ماہی میں ملازم کی کارکردگی کا جائزہ لینا بھی لازمی ہوگا۔
گائیڈ لائنز کے مطابق کنٹریکٹ میں توسیع کے لیے موجودہ معاہدے کی مدت ختم ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل متعلقہ کیس وزارت تجارت کو بھجوانا ہوگا۔ تین سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد نئی بھرتی کا عمل شروع کرنا لازمی ہوگا، جبکہ بعد ازاں منظوری (ایکس پوسٹ فیکٹو اپروول) کی کوئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔
وزارت تجارت نے واضح کیا ہے کہ پیشگی منظوری کے بغیر کسی بھی بھرتی، کنٹریکٹ میں توسیع یا تنخواہوں کی ادائیگی کو بے قاعدہ تصور کیا جائے گا۔ ایسی کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں متعلقہ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفیسر ذاتی طور پر آڈٹ اعتراضات کا ذمہ دار ہوگا۔ مزید برآں، لوکل اسٹاف سے متعلق کسی بھی تنازعے یا عدالتی کارروائی کی ذمہ داری بھی متعلقہ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفیسر پر عائد ہوگی۔
پالیسی میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وزارت تجارت اس حوالے سے کسی قسم کی انتظامی یا مالی مداخلت نہیں کرے گی۔ نئی پالیسی گائیڈ لائنز کے نفاذ کے بعد اس معاملے سے متعلق تمام سابقہ ہدایات منسوخ تصور ہوں گی۔

متعلقہ خبریں