اہم خبریں

پٹرولیم اور کلائمیٹ لیوی کی ادائیگی لازمی بنانے کیلئے نیا بل پیش

پاکستان میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کے لیے پٹرولیم اور کلائمیٹ لیوی کی ادائیگی لازمی بنانے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔ اس مقصد کے لیے پٹرولیم اور کلائمیٹ لیوی بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے، جس میں لیوی کی ادائیگی کو متعلقہ کمپنیوں کے لائسنس کی بنیادی شرط بنانے کی تجویز شامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پٹرولیم مصنوعات سے متعلق ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ مجوزہ قانون کا مقصد پٹرولیم کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کو مقررہ لیوی کی ادائیگی کا پابند بنانا ہے۔

لیوی ادا نہ کرنے پر قید اور جرمانے کی تجویز
مجوزہ بل کے مطابق اگر کوئی آئل مارکیٹنگ کمپنی یا ریفائنری پٹرولیم اور کلائمیٹ لیوی ادا نہیں کرتی تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے گی۔ بل میں خلاف ورزی پر تین سال تک قید، جرمانے یا دونوں سزائیں دینے کی تجویز شامل ہے۔

اس اقدام کے ذریعے لیوی کی ادائیگی سے متعلق قواعد پر عملدرآمد یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاہم مجوزہ سزا کی حتمی نوعیت اور اطلاق کا تعین قانون کی منظوری اور اس کی حتمی دفعات کے مطابق ہوگا۔

اوگرا کو لائسنس معطل کرنے کا اختیار دینے کی تجویز
بل میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو بھی اختیار دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے کہ لیوی کی عدم ادائیگی کی صورت میں متعلقہ کمپنی کا لائسنس معطل کیا جاسکے۔

اگر یہ تجویز قانون کی شکل اختیار کرتی ہے تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کے لیے لیوی کی ادائیگی کاروباری اجازت نامے سے منسلک ہوجائے گی۔ اس سے متعلقہ اداروں کو مالی ذمہ داریوں کی بروقت ادائیگی پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔

متعلقہ خبریں