اسلام آباد ( اے بی این نیوز)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے ساڑھے 11 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کردیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شرح سود میں 50 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے شرحِ سود بڑھانے کے حق میں ووٹ دیا۔
جمیل احمد نے کہا کہ مہنگائی میں اضافے کے خدشات کے باعث شرح سود بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر رہنے کے اثرات بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ گندم کی قیمتوں میں اضافے نے بھی مہنگائی پر دباؤ بڑھایا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق جغرافیائی و سیاسی حالات کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ستمبر کے اجلاس کے مقابلے میں معاشی حالات میں تبدیلی آئی ہے، جس کے باعث مہنگائی اور جاری کھاتے کے خسارے سے متعلق توقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکیں، تاہم ان میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ رواں مالی سال کے دوران ملکی معاشی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اس فیصلے کے بعد شرح سود 12 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ مہنگائی پر قابو پانا اور معاشی استحکام برقرار رکھنا مانیٹری پالیسی کے اہم اہداف میں شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ کے ذریعے سائبرحملوں کا ہائی الرٹ جاری















