اسلام آباد (اے بی این نیوز) اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی کثیر جہتی غربت انڈیکس (MPI) رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 38.3 فیصد آبادی صحت، تعلیم اور معیارِ زندگی کے شعبوں میں بیک وقت محرومیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ رپورٹ میں پاکستان میں کثیر جہتی غربت کی شرح بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں زیادہ بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت میں کثیر جہتی غربت کی شرح 16.4 فیصد جبکہ بنگلہ دیش میں 14.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ تاہم، یہ اعداد و شمار مختلف سالوں میں کیے گئے گھریلو سروے پر مبنی ہیں، اس لیے ان کا براہِ راست یکساں وقت کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
یو این ڈی پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں کثیر جہتی غربت کا شکار افراد میں محرومی کی شدت 51.7 فیصد ہے، جبکہ مزید 12.9 فیصد آبادی غربت کا شکار ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس انڈیکس میں صرف آمدنی کے بجائے غذائیت، بچوں کی اموات، تعلیم، صاف پانی، صفائی، بجلی، رہائش اور گھریلو اثاثوں جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کثیر جہتی غربت کا شکار افراد کی تعداد بڑھ کر ایک ارب 20 کروڑ تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ اعداد و شمار کے مقابلے میں 5 کروڑ 15 لاکھ زیادہ ہے۔ ان میں 61 کروڑ 70 لاکھ بچے شامل ہیں، جبکہ متاثرہ افراد کی بڑی تعداد دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔
رپورٹ میں جنوبی ایشیا میں غذائیت، رہائش اور اسکول کی تعلیم سے متعلق محرومیوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ خطے میں تقریباً 15 کروڑ غریب افراد ایسے گھرانوں میں رہتے ہیں جہاں اسکول جانے کی عمر کا کوئی بچہ تعلیم حاصل نہیں کر رہا۔
یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا کہ غربت میں اضافہ دنیا کے لیے ایک انتباہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق بھوک، تعلیم سے محرومی اور صاف پانی و بجلی تک رسائی نہ ہونے جیسے مسائل لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غربت کے خاتمے کے لیے صرف آمدنی بڑھانا کافی نہیں، بلکہ صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات تک رسائی بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔
مزیدپڑھیں: لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا















