اسلام آباد(اے بی این نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے قتل اور اغوا کیس میں گرفتار ملزمہ کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرلی، عدالت نے قرار دیا کہ ملزمہ کا قتل میں کوئی براہِ راست و مخصوص کردار سامنے نہیں آیا۔
جسٹس شاہ رخ ارجمند نے 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزمہ ماہ نور شاہد کی ضمانت منظور کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ ملزمہ کا نام ابتدائی ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا، بعد میں ضمنی بیان کے ذریعے نامزد کیا گیا، ملزمہ کے خلاف قتل کا کوئی براہِ راست اور مخصوص کردار سامنے نہیں آیا، معاملہ مزید انکوائری کا ہے۔
فیصلے کے مطابق کیس کا چالان جمع ہو چکا ہے، تفتیش مکمل ہے اور ملزمہ سے مزید تفتیش مطلوب نہیں، عدالتی آبزرویشن عبوری نوعیت کے ہیں، ٹرائل کورٹ کے حتمی فیصلے پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
واضح رہے ک 4 مئی 2026 کو تھانہ پھلگراں میں فرخ افضل کے اغوا اور قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مدعی چوہدری افضل کے مطابق رات 12 بجے نامعلوم افراد ان کے بیٹے فرخ افضل کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔
پراسیکیوشن کے مطابق ملزمہ ماہ نور شاہد پر قتل کی منصوبہ بندی اور مقتول کو اغوا کروانے کا الزام تھا۔
مزیدپڑھیں: پاکستان میں موسم کی صورتحال، بالائی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان















