اہم خبریں

حکومت اور اپوزیشن مذاکرات میں ڈیڈلاک، سلمان اکرم راجا نے بڑی وجہ بتادی

حکومت اور اپوزیشن مذاکرات میں ڈیڈلاک، سلمان اکرم راجا نے بڑی وجہ بتادی

اسلام آباد ( اے بی این نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈلاک کی وجہ بتادی۔

اسلام آباد سے جاری بیان میں سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اپوزیشن وفد اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹا رہا کہ خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان باہمی معاہدے کی بنیاد پر ہونی چاہئیں، جبکہ معاہدہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں موجود سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے طے کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد نے اپوزیشن کا مؤقف مسترد کردیا اور اصرار کیا کہ یکطرفہ طور پر شروع کیے جانے والے تمام اقدامات کو صوبائی حکومت تسلیم کرے۔

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ اپوزیشن وفد نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف پالیسی اور اقدامات مقامی آبادی کی حمایت اور زمینی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں منعقدہ جرگے کے فیصلوں پر بھی توجہ دی جانی چاہیے، تاہم یہ مؤقف وفاقی حکومت کے لیے قابل قبول نہیں تھا، جس کے باعث مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے۔

پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ مذاکرات ناکام ہونے کی بنیادی وجہ حکومتی اصرار تھا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کو وفاقی حکومت کے اقدامات اور آپریشنز کی حمایت پر مجبور کیا گیا، جبکہ ضم شدہ اضلاع میں 72 گھنٹوں کے اندر ایمرجنسی کے نفاذ کی تائید بھی مانگی گئی۔

سلمان اکرم راجا کا مزید کہنا تھا کہ حکومت مشاورت اور اتفاق رائے کا راستہ اپنانے کو تیار نہیں تھی۔ مذاکراتی ٹیم کا مقصد بانی پی ٹی آئی تک فوری رسائی حاصل کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی اور ذاتی معالج کی شمولیت کے ساتھ طبی بورڈ کے ذریعے علاج بھی مطالبات میں شامل تھا، تاہم حکومتی ٹیم ملاقاتوں کی بحالی کے علاوہ کچھ دینے کو تیار نہیں تھی۔
مزید پڑھیں‌:محسن نقوی پشاور پہنچ گئے، اہم ملاقاتیں، بڑی پیش رفت متوقع

متعلقہ خبریں