اسلام آباد ( اے بی این نیوز) صنعتی اور زرعی بجلی صارفین کے لیے وزیراعظم کے بجلی پیکج کا ششماہی جائزہ لینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
نیپرا کے مطابق پیکیج کے ششماہی جائزے کے لیے 5 اکتوبر کو سماعت ہوگی، جس میں لاگت اور آمدن میں توازن سمیت اہم امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ ضرورت کے مطابق مارجنل ٹیرف میں بھی رد و بدل کیا جاسکتا ہے۔
نیپرا کے مطابق پیکیج کے تحت صنعتی اور نجی زرعی صارفین کو اضافی بجلی 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ کے نرخ پر فراہم کی جارہی ہے۔ یہ سہولت ملک بھر کی متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کے ساتھ کے الیکٹرک کے اہل صنعتی اور زرعی صارفین کو بھی حاصل ہے۔
پاور ڈویژن کی جانب سے پیکیج کے ششماہی جائزے کے لیے نیپرا کو ضروری معلومات فراہم کردی گئی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات میں بجلی گھروں کے لحاظ سے فی گھنٹہ پیداوار، ماہانہ کھپت، رعایتی کھپت اور فی گھنٹہ نظامی مارجنل لاگت کی تفصیلات شامل ہیں۔
حکام کے مطابق پیکیج کا مقصد صنعتی اور زرعی شعبوں میں بجلی کی اضافی کھپت کو فروغ دینا اور بجلی کے نظام میں دستیاب اضافی پیداوار کو استعمال میں لانا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 سے فروری 2026 کے دوران اس پیکیج کے تحت صنعتی اور زرعی شعبوں نے 2 ہزار 164 گیگا واٹ آور اضافی بجلی استعمال کی۔
وزارت توانائی کے مطابق پیکیج نومبر 2025 سے اکتوبر 2028 تک نافذ رہنا ہے، تاہم اس دوران ششماہی جائزوں کے ذریعے لاگت اور آمدن کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر مارجنل نرخ میں تبدیلی کی جاسکے گی۔
مزید پڑھیں:رجب بٹ سے متعلق بڑا انکشاف، ایزل کی والدہ نے اصل حقیقت بتا دی















