لاہور(اے بی این نیوز)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈیجیٹل قرعہ اندازی کے ذریعے ’گرین ٹریکٹر اسکیم‘ کے چوتھے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے اور پانچویں مرحلے کے لیے درخواستوں کی وصولی شروع کر دی ہے۔
صوبائی حکومت کا منصوبہ ہے کہ رواں مالی سال کے دوران کسانوں کو 19,500 ٹریکٹر فراہم کیے جائیں، جن پر 7 لاکھ 50 ہزار روپے سے لے کر 10 لاکھ روپے تک کی سبسڈی دی جائے گی۔
چوتھے مرحلے کی قرعہ اندازی کی تقریب کے دوران، پہلا ٹریکٹر اٹک کے رہائشی مسعود خان (والد: لال خان) کے نام نکلا۔ وزیراعلیٰ نے اسکیم کے تحت پیش کیے جانے والے ٹریکٹرز کے ماڈلز کا معائنہ بھی کیا اور کامیاب درخواست دہندگان کو مبارکباد دی۔
چوتھے مرحلے کے تحت 50 سے 65 ہارس پاور انجن کی صلاحیت والے 10,000 ٹریکٹر تقسیم کیے جائیں گے۔ پنجاب حکومت ہر ٹریکٹر پر 7 لاکھ 50 ہزار روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔
حال ہی میں شروع ہونے والے پانچویں مرحلے میں 75 سے 125 ہارس پاور کی صلاحیت والے مزید 9,500 طاقتور ٹریکٹر فراہم کیے جائیں گے۔ اس مرحلے کے تحت منتخب ہونے والے کسانوں کو فی ٹریکٹر 10 لاکھ روپے کی سبسڈی ملے گی۔
صوبائی حکومت نے گرین ٹریکٹر اسکیم کے لیے 17.6 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق، اس پروگرام کے تحت اب تک کسانوں کو 24,000 ٹریکٹر فراہم کیے جا چکے ہیں جن پر فی ٹریکٹر 10 لاکھ روپے سبسڈی دی گئی ہے۔
گرین ٹریکٹر پروگرام کے لیے 2 لاکھ 13 ہزار 637 سے زائد کسانوں نے درخواستیں دی تھیں، جبکہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور نادرا سے تصدیق کے بعد 1 لاکھ 28 ہزار 757 درخواست دہندگان کو قرعہ اندازی کے عمل کے لیے اہل قرار دیا گیا۔
حکام نے زرعی میکانائزیشن (مشینری کے استعمال) پر حکومت کے اخراجات پر بھی روشنی ڈالی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 20 سالوں کے دوران کسانوں کو 10,000 ٹریکٹر فراہم کیے گئے تھے، جبکہ مریم نواز کے ڈھائی سالہ دورِ حکومت میں 35,000 ٹریکٹر تقسیم کیے گئے۔ اسی طرح، زرعی میکانائزیشن پر ہونے والے اخراجات بھی دو دہائیوں کے دوران 3 ارب روپے سے بڑھ کر اسی ڈھائی سالہ عرصے میں 20 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
مزیدپڑھیں: ڈی اے ای، ڈی کام اور دیگر ڈپلومہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان















