کراچی ( اے بی این نیوز) اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد کراچی کے قومی ادارہ برائے صحت اطفال (این آئی سی ایچ) میں بھی نومولود بچوں کی زندگیوں کو لاحق فائر سیفٹی خطرات کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق این آئی سی ایچ کی نرسری میں نومولود بچوں اور آکسیجن سلنڈرز کی موجودگی کے دوران کھلے عام ویلڈنگ اور مرمتی کام کیے جانے کی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ موصول ہونے والی ویڈیو میں ایک شخص کو نرسری کے اندر ویلڈنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ اسی دوران متعدد نومولود بچے بیڈز پر موجود ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جس وقت نرسری میں ویلڈنگ اور مرمتی کام جاری تھا، وہاں تقریباً 80 سے 120 بچے زیر علاج تھے، جن میں بیشتر نومولود بچے آکسیجن پر تھے۔
ذرائع کے مطابق شعبہ ایمرجنسی کی نرسری میں ہنگامی اخراج کا راستہ بنانے اور سیمی کریٹیکل یونٹ میں آمدورفت کے لیے نیا راستہ بنانے کی غرض سے لوہے کی گرل لگانے کا کام کیا جارہا تھا۔
تاہم مرمتی کام کے دوران نرسری میں موجود نومولود بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے یا ویلڈنگ کے لیے الگ جگہ مختص کرنے کے حوالے سے مناسب انتظامات نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آکسیجن سلنڈرز اور آکسیجن پر موجود نومولود بچوں کے قریب ویلڈنگ کرنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔ ویلڈنگ کے دوران نکلنے والی چنگاریاں آکسیجن کی موجودگی میں آتش گیر مواد کو آگ پکڑنے کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے چند لمحوں میں بڑا حادثہ پیش آنے کا خدشہ رہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حساس طبی وارڈز میں مرمتی کام کے دوران بچوں، مریضوں اور طبی عملے کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے اور اس مقصد کے لیے متبادل اور محفوظ انتظامات کیے جانے ضروری ہیں۔
این آئی سی ایچ کے نیونٹل آئی سی یو میں فائر سیفٹی سے متعلق متعدد خامیاں پہلے بھی سامنے آچکی ہیں۔ فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ میں ہسپتال کی چوتھی، پانچویں اور چھٹی منزل کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے مختلف حفاظتی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق نیونٹل آئی سی یو میں بجلی اور آکسیجن کے پوائنٹس انتہائی قریب نصب ہونے، آکسیجن لائن میں لیکیج اور پائپ کے جوڑوں پر ٹیپ لگا کر کام چلانے کے شواہد سامنے آئے تھے۔ کھلی اور غیر محفوظ بجلی کی وائرنگ کو بھی فائر سیفٹی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
فائر سیفٹی آڈٹ میں ہسپتال کا فائر الارم سسٹم غیر فعال جبکہ بیشتر اسموک ڈیٹیکٹرز خراب یا غیر فعال پائے گئے تھے۔ رپورٹ میں فائر ایکسٹنگوشرز کی ناکافی تعداد، عملے کو فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کی مناسب تربیت نہ ملنے اور باقاعدہ فائر ڈرلز نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی ایگزٹس بھی سامان اور کچرے سے بند پائے گئے، جبکہ پاور روم تک عوام کی آسان رسائی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ پاور روم میں اسموک ڈیٹیکٹر اور مناسب فائر فائٹنگ انتظامات نہ ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔
آڈٹ رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ نیونٹل آئی سی یو کا مکینیکل وینٹی لیشن سسٹم غیر فعال تھا، جبکہ پرانے ایئر کنڈیشننگ یونٹس کی کھلی اور عارضی وائرنگ بھی فائر سیفٹی کے حوالے سے خطرناک قرار دی گئی تھی۔
این آئی سی ایچ میں ماضی میں بھی آتشزدگی کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ 30 جون کو ہسپتال کے آئی سی یو میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جبکہ جنوری 2020 میں ایک انکیوبیٹر میں آگ لگنے کے نتیجے میں ایک نومولود جاں بحق ہوگیا تھا۔
ماضی کے ان واقعات اور فائر سیفٹی آڈٹ میں سامنے آنے والی خامیوں کے باعث ہسپتال میں زیر علاج نومولود بچوں کی حفاظت سے متعلق سوالات مزید اہم ہوگئے ہیں۔
فائر سیفٹی آڈٹ میں ہسپتال انتظامیہ کو بجلی، آکسیجن اور وینٹی لیشن سسٹم کو فوری محفوظ بنانے، فائر الارم اور اسموک ڈیٹیکشن سسٹم فعال کرنے، ایمرجنسی ایگزٹس سے تمام رکاوٹیں ہٹانے اور باقاعدگی سے فائر ڈرلز کرانے کی سفارش کی گئی تھی۔
آڈٹ میں ہسپتال میں فائر سیفٹی کے جامع انتظامات یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا تھا۔
دوسری جانب نرسری میں ویلڈنگ اور مرمتی کام کے معاملے پر ہسپتال انتظامیہ کا موقف جاننے کے لیے ڈائریکٹر این آئی سی ایچ پروفیسر ناصر سلیم سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
نرسری میں نومولود بچوں اور آکسیجن سلنڈرز کی موجودگی میں ویلڈنگ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ حساس ترین وارڈز میں مرمتی کام کے دوران فائر سیفٹی کے بنیادی اصولوں پر کس حد تک عمل درآمد کیا جارہا ہے۔
مزیدپڑھیں :فاقی دارالحکومت اسلام آباد کے اسپتالوں کو ہائی الرٹ کردیا گیا















