اہم خبریں

بجلی بلوں میں فکسڈچارجز ڈبل ہوئے ہیں،وزیرتوانائی کا اعتراف

اسلام آباد (اے بی این نیوز)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اعتراف کیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ بجلی بلوں میں فکسڈ چارجز ڈبل ہو گئے ہیں۔

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا پہلے فکسڈ چارجز بل کے 3 یا 4 فی صد پر لیے جاتے تھے، اب بل کے 10 فی صد پر لیے جاتے ہیں۔

اینکر محمد مالک کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے کہا ہمارے بل کی فکس کاسٹ پورے سال میں ایک ہی ہوتی ہے، جن مہینوں میں زیادہ یونٹ استعمال کرتے ہیں تو فکس کاسٹ کم ہوتی ہے، ہم پہلے 3 سے 4 فی صد بل کی فکس کاسٹ لیا کرتے تھے، اس وقت بل پر 10 فی صد فکسڈ کاسٹ ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی آئی ہے، سبسڈی ملتی رہے گی تو 5 سے 6 روپے یونٹ بجلی سستی ہوتی رہے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا ویریبل پر یونٹ کاسٹ کو تقسیم کریں تو بجلی کا بل کم ہوا ہے، سردیوں میں فکسڈ کاسٹ زیادہ محسوس ہوتی ہے لیکن گرمیوں میں ایسا نہیں ہوتا، جولائی 2025 سے لے کر اب تک 8 سے 9 فی صد بجلی کنزپشن بڑھی ہے، گزشتہ 9 سے 10 ماہ میں بجلی کی کنزپشن تقریباً 7 سے 9 فی صد بڑھی ہے، نیپرا کی ویب سائٹ پر اس کی معلومات دیکھی جا سکتی ہیں۔

وفاقی وزیر کے اعتراف سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حکومت فی یونٹ نرخوں میں کمی کو نمایاں کر رہی ہے جب کہ مستقل چارجز کے اضافے سے صارفین پر پڑنے والے حقیقی اثرات کو جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی ہے۔ حکومت فارمولے سے فکسڈ چارجز کا بوجھ کم بجلی استعمال کرنے والوں پر زیادہ منتقل ہو گیا ہے، یعنی حکومت کی جانب سے پہلے کم بجلی کے استعمال کی ترغیب دی جا رہی تھی اور اب کم استعمال پر بھی فکسڈ چاجز کی صورت میں ’’سزا‘‘ دی جانے لگی ہے۔

وفاقی وزیر خود کہہ رہے ہیں کہ جن مہینوں میں کنزمپشن کم ہوگی تو فکسڈ کاسٹ زیادہ لگے گی، اس کا مطلب ہے کہ غریب یا کم آمدنی والے گھرانے، چھوٹے گھریلو صارفین اس سے نسبتاً زیادہ متاثر ہوں گے، متغیر چاجرز سے مستقل چارجز پر بجلی نظام کی یہ منتقلی موجودہ حکومت کی جانب سے عوام دشمنی کا کھلا ثبوت ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع

متعلقہ خبریں