اہم خبریں

جنگ کا 22 واں روز: ایران میں امریکی اسرائیلی جارحیت کے سائے میں عید منائی جا رہی ہے

تہران، ریاض، واشنگٹن(اے بی این نیوز) ایران میں آج امریکی اسرائیلی جارحیت کے سائے میں عید منائی جا رہی ہے، برطانیہ امریکا کو فوجی اڈے دینے پر راضی ہو گیا، ایران نے امریکا برطانیہ کے مشترکہ اڈے پر میزائل داغ دیئے، تل ابیب میں بھی دھماکے ہوتے رہے، امریکا نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ایرانی پٹرول کی برآمد کی اجازت دے دی، ہزاروں فوجی ایران بھیجنے کی منصوبہ بندی کی اطلاعات بھی آئی ہیں۔

ادھر جنگ بندی نہ کرنے کے بیان کے فوراً بعد امریکی صدر ٹرمپ کا ایک اور متضاد بیان سامنے آگیا، سوشل میڈیا پر کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں‏۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا تحریری پیغام جاری کر دیا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کے درمیان اتحاد نے دشمن کی صفوں میں دراڑ پیدا کر دی ہے، دشمن نے ایران کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا تھا، امریکا اور اسرائیل کو لگتا تھا کہ ایک یا دو دن کے حملوں کے بعد ایرانی عوام ایران میں حکومت کا تختہ الٹ دیں گے، لیکن ان کے یہ سارے اندازے غلط ثابت ہوئے۔

اپنے پیغام میں انہوں نے پاکستان کی اہمیت کا بالخصوص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد کو بھی پاکستان بہت پسند تھا اور یہ ملک ان کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے، انہوں نے خطے کے دوسرے ممالک کے بارے میں کہا کہ وہ بیرونی مداخلت کی وجہ سے مشکلات میں آ گئے، ایران اپنے برادر ممالک سے بہتر تعلقات کی خواہش رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں۔مشرقِ وسطیٰ میں فوجی آپریشنز کو ختم کرنے پر غور کررہے ہیں،امریکی صدر

متعلقہ خبریں