اہم خبریں

کسی کو مار کر یا مجبور کر کے شکرگزاری یا رزلٹ لینا درست طریقہ نہیں،بیرسٹر علی ظفر

اسلام آباد (    )پارلیمانی لیڈر پی ٹی آئی بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ عدالت کسی رپورٹ کو محض فائل کا حصہ بنانے کے لیے طلب نہیں کرتی بلکہ اس کا مقصد متعلقہ اقدامات کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی زیر حراست شخص کو سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں تو عدالت اصلاح کا حکم دے سکتی ہے، اور اگر رپورٹ میں کوئی کمی ہو تو متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں جمع ہونے والی میڈیکل رپورٹ عام طور پر پبلک ڈاکومنٹ بن جاتی ہے اور اسے خفیہ نہیں رکھا جا سکتا، سوائے ان معاملات کے جو قومی سلامتی سے متعلق ہوں۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ زیر حراست فرد کو اہل خانہ اور بچوں سے ملاقات کا حق قواعد کے مطابق دیا جانا چاہیے اور قانون کا تقاضا ہے کہ تمام اقدامات شفاف ہوں تاکہ کسی کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر مختلف عدالتوں سے رجوع کیا گیا، ہر قانونی فورم پر مؤقف پیش کیا گیا، جبکہ پارلیمنٹ اور سینیٹ میں بھی آواز اٹھائی گئی۔ سینیٹرز نے مشترکہ طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری درخواستوں کا مقصد صرف قانونی اور آئینی حل تلاش کرنا تھا اور ہم ہر فورم پر اپنا حق استعمال کرتے رہیں گے۔ یہ معاملہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ اصول اور قانون کی بالادستی کا ہے۔ فیصلہ واپس لینے یا نہ لینے کا اختیار متعلقہ فورم کے پاس ہے، ہم اپنا مؤقف ضرور پیش کریں گے۔کسی کو مار کر یا مجبور کر کے شکرگزاری یا رزلٹ لینا درست طریقہ نہیں۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ حکومت پر فوری دباؤ نہ ہونے کے باعث پیش رفت سست دکھائی دیتی ہے، تاہم حتمی اختیار عدالت یا متعلقہ ادارے کے پاس ہے اور ہم قانونی راستہ اختیار کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاملے کو کمزوری نہیں بلکہ اصول کی بنیاد پر دیکھا جائے اور قانونی و پارلیمانی فورمز پر مؤثر نمائندگی ہو تاکہ یکطرفہ فیصلے نہ ہوں۔ اے بی این نیوز کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور سیاسی بات چیت ہی بہترین حل فراہم کرتے ہیں اور نارمل حالات میں ہی مسائل مؤثر انداز میں حل ہو سکتے ہیں۔ اگر حکومت کے اقدامات رکاوٹ بنیں تو بات چیت ممکن نہیں ہوگی۔ زبردستی یا دباؤ سے نتائج حاصل نہیں ہوتے بلکہ بامقصد اور بااختیار مذاکرات ہی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں :ٹی 20 ورلڈ کپ ، ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو 30 رنز سے شکست دے دی

متعلقہ خبریں