اسلام آباد(اے بی این نیوز)وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہاکہ تمام ملازمین کو تحفظ دیا گیا، تمام ہسپتالوں کو اپ لفٹ کیا جائے گا ،ریلوے کے تمام ملازمین کا ریلوے ہسپتالوں میں فری علاج کیا جائے گا ۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم نے ریلوے کی ذمہ داری میرے حوالے کی۔
ریلوے کی ڈیجیٹائزیشن کی ذمہ داری دی۔نئے ٹریک آؤٹ سورسنگ پر کام کا ٹاسک ملا ۔ ان کاکہناتھا کہ پاکستان ریلوے ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔سن 18 سو کا ریلوے کا ٹریک تھا ۔کراچی روہڑی 480 کلومیٹر کا ٹریک بنے گا ۔ منصوبہ کا سنگ بنیاد جولائی 2026 میں رکھیں گے ۔اس منصوبے کو ڈھائی سال میں مکمل کریں گے ۔
وزیر ریلوے کاکہناتھا کہ روہڑی سے نوکنڈی سے 9 سو کلو میٹر بنتا ہے ۔ریکوڈک کی فرم آر ڈی ایم سی کے تعاون سے ٹریک بنے گا۔5 سو کلومیٹر ٹریک نیا بنے گا 4 سو کلومیٹر ٹریک اپ لفٹ ہوگا ۔ ان کاکہناتھا کہ پنجاب میں 8 ریجنل روٹس بنیں گے۔اس پر حکومت پنجاب نے منظوری دے دی ہے۔بلوچستان میں 4 ارب روپے سے پیپلز ٹرین بنا رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ سندھ کیساتھ 8 تاریخ کو میٹنگ ہے۔
سکھر ایکسپریس کو بہتر کرنے جا رہے ہیں ۔ حنیف عباسی کاکہناتھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ چیئرمین ریلوے کی ملاقات ہوگئی ہے۔ان کو بھی ریلوے کے ساتھ پارٹنرشپ میں برانچ لائنز بہتر کرنے پر بات ہوئی ہے۔دوسرے فیز میں خود وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملوں گا ۔ ان کاکہناتھا کہ 31 دسمبر تک تمام بڑے روٹس کی ٹرین اپ گریڈ کی جائیں گی ۔ٹرینوں کے اندر سیکورٹی کیمرہ، ہوسٹس اور نئے کچن بنائے جائیں گے۔سٹیشن پر وائے فائے نصب کر دیئے گئے، رابطہ ایپ سے ٹکٹ بک کئے جائیں گے۔
وزیر ریلوے نے کہاکہ 1700 کلو میٹر میں فائبز بچھانے جارہے ہیں،کراچی اور لاہور کے سٹیشن کو سیف اینڈ سیکور کرنے جارہے ہیں ۔ایم ٹیک کی طرز پر ٹرینوں کو سٹیکرز لگانے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 8 تاریخ کو وزیراعلی سندھ سے ملاقات جبکہ 9 جنوری کو پیپری میں 40 ملین ڈالرز کا منصوبہ مکمل ہو گا۔ حنیف عباسی نے کہاکہ تمام ملازمین کو تحفظ دیا گیا، تمام ہسپتالوں کو اپ لفٹ کیا جائے گا ،ریلوے کے تمام ملازمین کا ریلوے ہسپتالوں میں فری علاج کیا جائے گا ۔
ان کاکہناتھا کہ ہم نے 14 رننگ رومز کو مزید تیار کریں گے تا کہ عملے اچھے انداز میں کام کرے آئینی طور پر تو کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ وزیر ریلوے کاکہناتھا کہ 27 ترمیم آئی تو 28 ترمیم بھی آئے گی۔اس 28 ترمیم میں کیا ہو مجھ سے نہیں پوچھا گیا۔ہم ان لوگوں میں سے نہیں کسی کو سیاسی دیں۔کے پی کے حکومت سیاست کے ساتھ ویلفئیر کرے ۔کے پی کے حکومت ٹرین خود منگوائے چلائے۔ 776 ایکڑریلوے اراضی پر قابضین تھے ۔ریلوے پولیس سمگلنگ اور چوریاں کراتی تھی ۔15 سو بھرتیاں ریلوے پولیس میں ہوئی ۔ شفاف ترین بھرتیاں ہوئی کوئی سفارش نہیں لی۔
سمگلنگ پاکستان ریلوے میں صفر ہوچکی ہے۔ریلوے پولیس نے چوری پر مکمل قابو پالیا ہے۔ ان کاکہناتھا کہ راولپنڈی لاہور ریل کاریں اپ گریڈ کر دی ہیں ۔نارووال کے چاروں ٹریک اپ گریڈ ہوگئے ہیں۔وزیراعظم نے تمام صوبوں کو یکساں مواقع دینے کا کہا۔ان کاکہناتھا کہ کوئی جتنا بھی طاقتور ہو اس کو نہیں چھوڑا جائے گا ۔
سیکیورٹی ایشو پر یہاں سب کو نہیں بتا سکتا۔9 کیسز میں پاکستان ریلوے نے دیا۔45 بلین پاکستان ریلوے کا بنتا ہے ۔میری ڈی جی نیب اور ٹیم سے ملاقات ہوئی ہے۔تمام قابضین کو نوٹس بھیجیے جا چکے ہیں ۔ایم ایل ون ایک سیکشن اے ڈی بی اور ایک ایکشن حکومت پنجاب کی مدد سے بنائیں گے۔پیسہ یہ دونوں لگائیں گے،بقیہ کا بین الاقوامی ٹینڈر ہونگے ۔
مزید پڑھیں۔مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کیلئے ہوں گے، محمود اچکزئی، اسمبلیوں سے استعفوں کا بھی عندیہ















