اسلام آباد ( اے بی این نیوز )شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ مجھے کیوں نکالا سوال کرنا میرا جمہوری حق ہے۔ میں نے پارٹی پر کوئی الزام نہیں لگایا۔ پارٹی ورکرز کو نکالنے سے پہلے چارج شیٹ کرکے سنا جاتا ہے۔
مجھے نکالنا بھی تھا عمران خان کے سامنے لے جاکر کہتے مزید آپ کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ مجھے مہلت دیے بغیر پارٹی سے نکالا گیا۔ عمران خان نے مجھے پی اے سی کیلئے نامزد کیا تھا۔ وہ اے بی این نیوز کے پروگرام سوال سے آگے میںمیں گفتگو کر رہے تھے،انہوں نے کہا کہ
عمران خان سے جب ملاقات ہوگی تو سازشیوں کے نام ضرور بتاؤں گا۔ بلے کے نشان ،مخصوص نشستوں کے فیصلوں پر پارٹی میں بالکل خاموشی ہے۔ ہم نے پارٹی کیلئے جو محنت کی تھی اس کا حق 8فروری کو ادا ہوا۔
میرا ساتھ بھی فارم 47والا معاملہ ہورہا تھا لیکن میں نے اپنا حق چھین لیا۔ مجھے پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ عمران خان کا نہیں۔ اگر ہم تنقید کرنے سے ڈریں گے تو بانی کے ساتھ وفا نہیں نبھا سکیں گے۔
اس وقت بانی پی ٹی آئی کو مس گائیڈکرنا غداری کے مترادف ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف پریس کانفرنس پر آدھے گھنٹے میں پارٹی سے ردعمل آیا۔ بانی پی ٹی آئی کو امید دلائی تھی کہ قاضی فائز عیسیٰ انصاف دلائیں گے۔ میرے اور فوادچودھری کے درمیان صرف بیانات کا تبادلہ ہوا ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ عمران خان سے ہمارا رابطہ ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،عمران خان کو ان کے ذاتی معالج سے ملنے نہیں دیا جارہا۔
عمران خان کے حوالے سے ہمیں تحفظات ہیں۔
کل دیر رات ہمیں بتایا گیا کہ توشہ خانہ ٹو کیس کو ملتوی کیا گیا۔ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا جارہا۔ عمران خان کے حکم پر شیرافضل کو شوکاز کیا گیا تھا۔ عمران خان کے حکم پر ہی شیرافضل مروت کو پارٹی سے نکالا کیا گیا۔
کوئی بھی بانی پی ٹی آئی کی پارٹی پر قبضہ نہیں کرسکتا۔ پارٹی میں بانی پی ٹی آئی کے علاوہ کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ فیصل واوڈا کے بیانات کی کوئی اہمیت نہیں ۔ فواد چودھری کیعمران خان کے علاوہ کوئی سیاسی کامیابی نہیں۔















