اسلام آباد (رضوان عباسی )آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کے لیے الیکشن کمیشن کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ امیدواروں کی حتمی فہرست جاری ہونے کے بعد تمام امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کر دیے گئے ہیں، جس کے ساتھ ہی ریاست بھر میں انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 45 انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 846 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں، جبکہ مہاجرین جموں و کشمیر کے 12 حلقوں سے 143 امیدواروں کو بھی انتخابی نشانات الاٹ کر دیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف آزاد جموں و کشمیر اعداد و شمار کے مطابق ایل اے-1 میرپور سے 20، ایل اے-2 چکسواری سے 24، ایل اے-3 میرپور شہر سے 34 اور ایل اے-4 کھڑی شریف سے 20 امیدوار میدان میں ہیں۔
بھمبر کے حلقہ ایل اے-5 سے 18، ایل اے-6 سے 17 اور ایل اے-7 سے 28 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ کوٹلی کے حلقہ ایل اے-8 سے 19، ایل اے-9 سے 12، ایل اے-10 سے 29، ایل اے-11 سے 24، ایل اے-12 سے 15 اور ایل اے-13 سے 27 امیدوار مدِمقابل ہیں۔
باغ کے حلقہ ایل اے-14 (غربی باغ) سے 21، ایل اے-15 (وسطی باغ) سے 30، ایل اے-16 (شرقی باغ) سے 22 اور ایل اے-17 (باغ، حویلی) سے 9 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔
اسی طرح پونچھ و سدھنوتی کے حلقہ ایل اے-18 سے 18، ایل اے-19 سے 18، ایل اے-20 سے 10، ایل اے-21 سے 13، ایل اے-22 سے 17، ایل اے-23 سے 25 اور ایل اے-24 سے 25 امیدوار قسمت آزما رہے ہیں۔
نیلم کے حلقہ ایل اے-25 سے 28 اور ایل اے-26 سے 22 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ مظفرآباد کے حلقہ ایل اے-27 سے 26، ایل اے-28 سے 24، ایل اے-29 سے 34، ایل اے-30 سے 15، ایل اے-31 سے 25، ایل اے-32 سے 14 اور ایل اے-33 سے 20 امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔
مہاجرین جموں و کشمیر کے حلقہ ایل اے-34 سے 17، ایل اے-35 سے 16، ایل اے-36 سے 13، ایل اے-37 سے 11، ایل اے-38 سے 11، ایل اے-39 سے 14، ایل اے-40 سے 11، ایل اے-41 سے 16، ایل اے-42 سے 7، ایل اے-43 سے 12، ایل اے-44 سے 8 اور ایل اے-45 سے 7 امیدوار انتخابی میدان میں موجود ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جانے کے بعد ریاست بھر میں انتخابی مہم باقاعدہ طور پر شروع ہو چکی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے انتخابی جلسوں، کارنر میٹنگز اور عوامی رابطہ مہم میں تیزی لاتے ہوئے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن بھی شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دے رہا ہے۔















