عالمی ادارے اقوام متحدہ ( uno)نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع ( strait of hormuz )کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں، اور تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل حل کرنے ہوں گے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے امریکا ( america)اور ایران( iran) کے درمیان مذاکرات ایک مثبت اور بامعنی پیش رفت ہیں، اور اگر فوری معاہدہ نہ بھی ہو تو یہ ایک فطری عمل ہے۔ ان کے مطابق ضروری ہے کہ بات چیت کا سلسلہ ہر صورت جاری رکھا جائے۔
مزید پڑھیں :وزیر ا عظم کی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے اجلاس، اہم خبر آگئی، جا نئے کیا
انہوں نے جنگ بندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسے برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے احترام پر بھی زور دیا اور کہا کہ یہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جس میں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ترجمان نے انکشاف کیا کہ جاری تنازع کے باعث تقریباً 20 ہزار سمندری کارکن مختلف جہازوں پر پھنس کر رہ گئے ہیں، جو ایک بڑا انسانی مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور فوری توجہ کا متقاضی ہے۔















