اہم خبریں

کراچی تباہی سے بچ گیا، چار ٹن سے زائد دھماکا خیز مواد برآمد

کراچی(اے بی این نیوز)سیکیورٹی اداروں نے کراچی میں دہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیا۔ بلدیہ رئیس گوٹھ میں کارروائی کے دوران چار ٹن سے زائد دھماکا خیز مواد پکڑا گیا۔

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کیپٹن ریٹائرڈ غلام اظفر مہیسر نے اہم پریس کانفرنس میں بتایا کہ کئی دن اور راتوں کی محنت کے بعد ایک دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا، گرفتار دہشت گرد سے تفتیش کے بعد ایک اور کامیابی ملی، گذشتہ رات دو مزید دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے۔

گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید ولد محمد نور، نیاز قادر عرف کنگ ولد قادر بخش، حمدان عرف فرید ولد محمد علی شامل ہیں، اداروں کی مسلسل نگرانی اور غیر معمولی چوکنا پن سے دہشت گردی کا منصوبہ بے نقاب ہوا۔

برآمد شدہ دھماکہ خیز مواد کو شہر سے باہر حب کے علاقے میں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا گیا، دو ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد کی برآمدگی سے بے شمار قیمتی جانیں بچا لی گئیں، دہشت گردوں نے کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مکان کرائے پر لے رکھا تھا،انٹیلی جنس اداروں نے انسانی اور تکنیکی ذرائع سے نگرانی کی، آپریشن کو مکمل خفیہ رکھا گیا،عوام میں خوف و ہراس پھیلنے سے بچانے کے لیے غیر معمولی احتیاط برتی گئی، کارروائی کے دوران بوبی ٹریپس اور ممکنہ خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیے گئے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ خیز مواد افغانستان سےاندرون بلوچستان اور پھر کراچی لایا گیا۔

شواہد کے مطابق نیٹ ورک کو ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کیا جا رہا تھا، انڈین مفادات کے تحت کام کرنے والے دہشت گرد گروہ اس منصوبے کے پیچھے تھے، بھارتی پراکسیز بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتی ہیں۔

دہشت گرد نیٹ ورک کے تانے بانے بشیر زیب، بی ایل اے، فتنۃ الہندوستان اور مجید بریگیڈ سے جوڑنے کے شواہد ہیں، یوریا پر مبنی دھماکہ خیز مواد دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، دھماکا خیز مواد کی سپلائی چین توڑنا سیکیورٹی اداروں کی اولین ترجیح ہے۔

مقامی سہولت کار معمولی مالی مفادات کے بدلے دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں، دہشت گرد رہائشی گھروں کو چھپنے اور بارودی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، گھروں کی کرایہ داری کے نظام پر سخت نگرانی اور مؤثر جانچ ناگزیر ہے۔

یوریا اور دیگر کیمیکلز کے غیر قانونی استعمال پر قوانین کے سخت نفاذ پر زور لازمی ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔ دہشت گرد منصوبے کے تمام ذمہ داروں کا پیچھا کیا جا رہا ہے، مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

مزید پڑھیں۔بنگلہ دیش حکومت کا آئی پی ایل کی نشریات اورتشہیرپرغیرمعینہ مدت کی پابندی کا اعلان

متعلقہ خبریں