اہم خبریں

پی ایس ایل دو شہروں تک محدود، تماشائیوں کا داخلہ بند: ’بنا شائقین کے ایونٹ کا فائدہ نہیں، بہتر تھا اسے منسوخ کر دیا جاتا‘

لاہور(سپورٹس ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا 11واں سیزن 26 مارچ سے شروع ہوگا، تاہم خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث اس بار میچز صرف دو شہروں میں ہوں گے اور شائقین میچز دیکھنے سٹیڈیم بھی نہیں آ سکیں گے جبکہ افتتاحی تقریب بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔

اتوار کے روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کے حوالے سے مشاورت جاری تھی، جس میں حکومت بھی شامل تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پتا نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کب تک چلتی ہے اور مشاورت کے دوران ہمیں پی ایس ایل کے دوران نقل و حمل کم رکھنے کو کہا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی اس جنگ کے باعث پیدا ہونے والی ایندھن کی کمی سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات متعارف کروائے ہیں، جس میں نقل و حمل میں کمی بھی شامل ہے۔

پی سی بی کے چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ پی ایس ایل ایک ’انٹرنیشنل برانڈ‘ ہے جس میں اوورسیز پلئیرز بھی شامل ہیں اور اگر اسے ملتوی کیا جاتا تو آگے ’اس کے انعقاد کے لیے کوئی دوسری ونڈو دستیاب نہیں تھی۔‘

پی سی بی چیئرمین نے بتایا کہ پی ایس ایل منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ طے شدہ شیڈول کے مطابق 26 مارچ سے ہی شروع کیا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جب تک موجودہ بحران چل رہا ہے، سٹیڈیم میں تماشائیوں کا داخلہ بند ہوگا۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اخراجات کم کرنے کے لیے افتتاحی تقریب منسوخ کر دی گئی ہے اور ایونٹ کا آغاز براہ راست پہلے میچ سے ہی ہو گا۔

ان کے مطابق پی ایس ایل کی شروعات لاہور سے ہو گی۔

انھوں نے بتایا کہ فینز نہیں ہوں گے تو زیادہ شہروں میں جانے کا فائدہ نہیں، اس لیے پی ایس ایل 11 صرف دو شہروں لاہور اور کراچی میں کھیلا جائے گا۔

’25 سے 30 ہزار لوگ سٹیڈیم میں آئیں گے، ایک طرف ہم شہروں کو نقل و حمل محدود کرنے کا کہہ رہے ہیں، دوسری طرف اتنے لوگ اکٹھے ہوتے۔‘

مسن نقوی کا کہنا تھا کہ پی سی بی پی ایس یل کے ترمیم شدہ شیڈول کا اعلان جلد ہی کر دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پشاور والوں سے خاص ظور معذرت خواہ ہیں، کہ ان سے اس بار پشاور میں پی ایس ایل کے میچز کروانے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان حالات کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو پائے گا۔‘

شائقین کے بغیر میچ کروانے سے ہونے والی مالی نقصان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ فرنچائزز کو گیٹ منی پی سی بی دے گا تاکہ ان کا نقصان زیادہ نہ ہو۔

محسن نقوی کا کہنا ہے کہ جن فینز نے ٹکٹ لے لیے ہیں وہ اپنی رقم واپس حاصل کر پائیں گے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پی ایس میں شرکت کے لیے کٹیگری اے پلئیرز آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ دو، تین کھلاڑی لیگ چھوڑ کر گئے ہیں اور اس حوالے سے قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ زمبابوے سے تعلق رکھنے والے فاسٹ بالر بلیسنگ مزاربانی نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد پی ایس ایل کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ وہ اسلام آباد یونائیٹد کا حصہ تھے۔

’میرے خیال میں یہ پی ایس ایل کا سب سے برا سیزن ہو گا‘
پی سی بی کی جانب سے پی ایس ایل کے 11ویں سیزن کے آغاز سے محض چار روز قبل لیگ کو محض دو شہروں تک محدود کرنے، افتتاحی تقریب کی منسوخی اور شائقین کے سٹیڈیم میں داخلے پر پابندی کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر اس متعلق شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ایک صارف لکھتے ہیں کہ ’دنیا میں کہیں بھی چھوٹا سا مسئلہ ہوتا ہے اور پاکستان کرکٹ اس کی نظر ہو جاتی ہے۔ ‘

عمار نامی صارف نے پی ایس ایل کو ’بے جان‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے منسوخ کر دینا چاہیے۔

پی ایس ایل کے میچز کراچی اور لاہور تک محدود کرنے کے فیصلے سے متعلق ایک صارف کا کہنا ہے کہ ’راولپنڈی کے شائقین کو محروم رکھنا ایک بڑی غلطی ہے کیونکہ کراچی میں تو کوئی پی ایس ایل دیکھتا بھی نہیں۔‘

محمد احمد نامی صارف کا کہنا ہے کہ ’بنا شائقین کے پی ایس ایل شروع کرنے کا فائدہ نہیں، اس سے بہتر ہوتا کہ اسے کینسل کر دیا جاتا۔‘

ایک اور صارف لکھتے ہیں کہ کیا پی ایس ایل کی انتظامیہ ’سو رہی تھی‘ کہ ایونٹ شروع ہونے سے صرف تین قبل یہ فیصلے لیے جا رہے ہیں۔

’جتنا اوپر کی طرف محسن نقوی کا اورا جا رہا تھا، اس سے تیزی سے نیچے آگیا ہے۔‘

بہت سے شائقین اس سال بھی پشاور میں میچز نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔

احمد آفریدی نامی صارف ایکس پر لکھتے ہیں، ’10 سال کے بعد پشاور ان میچز کا حقدار تھا۔ ہمارےفینز نے بے مثال جذبہ اور محبت کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

’میچز تو لاہور منتقل ہوگئے ہیں، ہمارے دل پشاور میں ہی ہیں۔‘
مزیدپڑھیں:دشمن کے مکمل سرنڈر تک جنگ پوری شدت اور طاقت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی:ایران

متعلقہ خبریں