کراچی (نیوزڈیسک)نجی شعبہ کے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن فراہم کرنے والے قومی ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) نے بینک الفلاح سے معاہدہ کی مدت ختم ہونے کے بعد ادارہ میں رجسٹرڈ ایک لاکھ سے زائد آجران سے ماہانہ کنٹری بیوشن کی وصولیابی اور چار لاکھ سے زائد بزرگ پنشنرز میں اربوں روپے کی ماہانہ پنشن کی تقسیم کے لئے مطلوبہ صلاحیت کے حامل قومی بینکوں سے تجاویز طلب کرلی ہیں۔ شرائط وضوابط کے مطابق یہ معاہدہ پانچ برس کی مدت کے لئے کارآمد ہوگا اور اس میں باہمی رضامندی سے مزید تین برس کی توسیع کی جاسکے گی۔ اس عمل میں دیگر قانونی شرائط کے ساتھ ساتھ ایسے بینکوں کو ترجیح دی جائے گی جن کی ملک بھر کے اضلاع میں کم از کم 600 شاخیں اور 800 اے ٹی ایم مشینوں کی سہولت دستیاب ہو۔ای او بی آئی کے سابق افسر تعلقات عامہ اسرار ایوبی نے بینکنگ سروسز کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں حبیب بینک ، یو بی ایل، تعمیر مائیکرو فنانس بینک/ ایزی پیسہ، نیشنل بینک ایک او بی آئی کو بینکنگ سروسز فراہم کر چکے ہیں اور2016سے بینک الفلاح بحسن و خوبی ای او بی آئی کے لئے بینکنگ سروسز کی خدمات انجام دے رہا ہے جس کی بدولت ای او بی آئی کو ملک میں پنشن کی تقسیم کے اولین ادارہ کا اعزاز حاصل ہے کہ جس کے بزرگ پنشنرز ہر ماہ بینکوں کے باہر قطاریں لگانے اور انتظار کرنے کے بجائے بینک الفلاح کے اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعہ اپنی پنشن حاصل کررہے ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خصوصی ہدایت کے مطابق ای او بی آئی کے پنشنرز کے لئے بینک الفلاح کے علاوہ کسی اور بینک کی اے ٹی ایم مشین سے پنشن نکالنے کی صورت میں کوئی اضافی چارجز لاگو نہیں ہیں۔ ای او بی آئی کی تاریخ میں بینک الفلاح کی ڈیجیٹل بینکنگ سروسز سب سے زیادہ کامیاب رہی ہے۔ بینکنگ سروسز کے حصول کے لئے بولیاں 15 دسمبر 2023کو ای او بی آئی ہیڈ آفس کراچی میں کھولیں جائیں گی۔















