کویت(نیوزڈیسک) نیشنل فاسٹ فوڈ چین میکڈونلڈز کی فرنچائززکا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ مسلم ممالک میں میکڈونلڈز کو شدید ردعمل کا سامنا ہے، مسلم ممالک میں میکڈونلڈز اور اسٹار بکس کے بائیکاٹ سے کمپنیوں کو لاکھوں ڈالرز کا نقصان ہونے لگا۔سعودی عرب، عمان، کویت، متحدہ عرب امارات، اردن، مصر، بحرین اور ترکی میں میکڈونلڈز کی فرنچائزز نے خود کو اسرائیلی فرنچائزز سے الگ ظاہرکردیا جبکہ غزہ کے شہریوں کی مددکیلئے مجموعی طور پر 30 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی امداد کا اعلان کردیا۔میکڈونلڈز کی عمان میں فرنچائز نے ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ہم سب اپنی کوششوں کو یکجا کریں اور غزہ میں کمیونٹی کی ہر ممکن مدد کریں، ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمارے پیارے ملک اور تمام عرب اور مسلم ممالک کو ہر قسم کے شر اور نفرت سے محفوظ رکھے۔‘میکڈونلڈ عمان نے غزہ کے شہریوںکیلئے 100,000دینے کا اعلان بھی کیا ۔ میکڈونلڈز اسرائیل نے عرب اور مسلم ممالک کے صارفین کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ ‘نجی’ میں تبدیل کر دیا ۔سعودی عرب کے 35 سالہ کارکن احسان امین کے مطابق ‘فلسطین اسرائیل تنازعہ کی وجہ سے امریکی فرنچائزز کا عرب بائیکاٹ ان کے فلسطینیوں کے ساتھ لگاؤ کو اجاگر کرتا ہے ۔’عرب ممالک میں جاری بائیکاٹ کے بعد اسٹاربکس والٹ، ڈزنی کمپنی اور میکڈونلڈز کے شئیرز کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان ہے جس سے کمپنی کو لاکھوں ڈالرز کے نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے















