کراچی(نیوزڈیسک) غیرقانونی ایکس چینج مارکیٹوں اور حوالہ ہنڈی کیخلاف کئے جانیوالے آپریشنز کے باعث گزشتہ ماہ ستمبر میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر 20.2ارب ڈالر رہی جو چھہ ماہ کی بلند ترین سطح ہے، کریک ڈاؤن نے اوورسیز پاکستانیوں کو ترسیلات زر قانونی ذرائع سے بھیجنے پر مجبور کردیا ، ترسیلات زر میں اضافے کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بھی بہتری آنے کی توقعات ، ترسیلات زر مارکیٹ کی توقعات کے مقابلے میں کم رہیں۔ ترسیلات زر میں اضافے کا یہ رجحان آئندہ بھی برقرار رہے گا، تاہم، سالانہ بنیادوں پر ترسیلات زر 11فیصد کمی کے ساتھ 2.20 ارب ڈالر رہی، جو کہ گزشتہ سال کے ستمبر میں 2.48 ارب ڈالر تھی، رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر ترسیلات زر 20 فیصد کمی کے ساتھ 6.33 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کی اسی سہہ ماہی کے دوران 7.89 ارب ڈالر رہی تھی۔ماہرین نے ستمبر میں ترسیلات زر 2.30 ارب ڈالر سے 2.50 ارب ڈالر رہنے کی توقع ظاہر کی تھی، اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ترسیلات زر میں اگست کے مقابلے میں ستمبر میں 5 فیصد اضافہ ہوا، جو 2.09 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.20 ارب ڈالر ہوگئی ، برطانیہ سے ترسیلات زر311 ملین ڈالر، امریکہ سے 263 ملین ڈالر، جبکہ دیگر ممالک سے 425 ملین ڈالر رہیں۔















