اسلام آباد(نیوزڈیسک) سابق وفاقی وزیر و پاکستان مسلم لیگ ن کے راہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی تاریخ میں سیاسی ، اخلاقی معاشی طور پر انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے،پارلیمنٹ کے تقدس کے بغیر تر قی ممکن نہیں ہے، غیر ملکی طاقتوں نے 1971 میں اقتدار پر قبضہ جمانے والوں کا ساتھ دیا تھا،پہلے سائفر اور اب انتخابات پر کھیلا جا رہا ہے ،آج کے حالات کے ذمہ دارجنرل باجوہ اورثاقب نثار کے فیصلےہیں،نواز شریف کا فلسفہ بڑا واضح ہے کہ اس ملک میں خوشحالی اور آئین و قانون کی بالادستی ہو ، فیصلے آئین و قانون کے مطابق ہونے چاہئیں، 1971 میں بھی عوامی مینڈیٹ کو روندا گیا تو سانحہ پیش آیا، نواز شریف اس قوم کا مسیحا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کے پیچھے کون سی طاقتیں ہیں ،غیر ملکی سفیر الیکشن کمیشن کے پاس کیا لینے جاتے ہیں، ان تمام باتوں کا پتہ چلانے کیلئے حمود الرحمن کمیشن جیسا کوئی کمیشن بنایا جائے،نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیگی راہنماء میاں جاویدلطیف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اپنی 75 سالہ تاریخ میں انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے ،بد قسمتی سے جو بڑے حادثات ہوئے ہم نے ان سے کچھ نہیں سیکھا،کچھ حادثے ایسے ہیں جنہوں نے آج تک ہمیں سنبھلنے نہیں دیا،ان حادثوں میں ایک حادثہ 2017 کا ہے،2017 میںپاکستان ترقی کررہا تھا، عالمی طاقتوں نے کسی کو لانے کیلئے سہولت کاری کی،پاکستان کے موجودہ حالات میں لوگوں کے چولہے بجھے ہوئے ہیں ،بد قسمتی ہے کہ قربانیاں دینے والے اور پاکستان کو برباد کرنے والوں کو ایک ہی پلڑے میں تولا جاتا ہے،نواز شریف ، بینظیر بھٹو جیسے لوگوں کیساتھ 9 مئی کے واقعات میں ملوث لوگوں کو ایک پلڑے میں رکھ کردیکھیں گےتو معاملات کیسے حل ہوں گے،ہمارے لئےلیول پلینگ فیلڈ نہیں ہے،نواز شریف اور بے نظیر بھٹو سے پوچھو عدم اعتماد کون لایا تھا،نواز شریف کا فلسفہ بڑا واضح ہےکہ پاکستان میں خوشحالی اورآئین و قانون کی بالادستی ہو ، فیصلے آئین و قانون کے مطابق ہونے چاہئیں، 1971 میں بھی عوامی مینڈیٹ کو روندا گیا تو سانحہ پیش آیا ، اب بھی غیر ملکی قوتیں اقتدار پر قبضہ جمائے رکھنا چاہتی ہیں،، نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان آ رہے ہیں،، 21 اکتوبر کو مسلم لیگ کے کارکن اور ووٹر سپورٹر لاہور جائیں گے، لوگوں کو اس پر امیدہے، ، آئین و قانون کیساتھ کتنے لوگ کھڑے ہیں یہ 21 اکتوبر کو پتہ چلے گا،مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کرنے والے چوکوں چوراہوں پر کچھ اور کہتے ہیں ، آج بھی پی ٹی آئی کے نیازی گروپ کے پیچھے عالمی قوتیں کھڑی ہیں ، 2017 ء میں عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا اور ترقی کرتے پاکستان میں عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا،پہلے سائفر اور اب انتخابات پر کھیلا جا رہا ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کو پبلک کیا جائے اور 2017 کے واقعات کو اسی رپورٹ کی طرح سزا دی جائے جب قربانی دینے والے اور ملک کو کھانے والوں کے ساتھ ایک سا سلوک ہو گا تو ملک یہی حال ہو گا ، نواز شریف کا فلسفہ ہے کہ آئین اورپارلیمنٹ کی تقدس کے بغیر تر قی ممکن نہیں ہے، ، جب فیصلے ٹھیک ہوں گے پھر پاکستان ترقی کی راہ پر نکل پڑے گا، 1971ءمیں بھی عوامی مینڈیٹ کو روندا گیا تو سانحہ پیش آیا ، غیر ملکی طاقتوں نے 1971 میں اقتدار پر قبضہ جمانے والوں کا ساتھ دیا تھا نواز شریف کے
آنے سے پاکستان میں خوشحالی آ سکتی ہے مگر پہلے پاکستان میں انصاف کا نظام آنا چاہئے۔















