عوام یا ریاست کے خلاف دہشت گردی میں ملوث کسی بھی تنظیم یا فرد سے بات چیت یا مذاکرات نہیں ہونگے، وزیر داخلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ کسی بھی ایسی تنظیم یا فرد سے جو عوام یا ریاست کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہو اس کے ساتھ بات چیت یا مذاکرات نہیں ہوگی ، عمران خان کے توشہ خان کیس ،فارن فنڈنگ کیس ، القادر ٹرسٹ کیسز وائیٹ کالر کرائم ہیں جن کی تحقیقات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے ،وزارت مذہبی امور عربی اور اردو میں ایک مستند نسخہ مرتب کر کے صوبائی قرآن بورڈ سے تائید حاصل کرنے کے بعد قرآن پاک کا وہ نسخہ ہر ضلع، تحصیل اور ڈویژن سطح تک پہنچایا جائے گا، تمام صوبائی حکومتیں اور وزارت امور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ قرآن پاک کا نسخہ کسی قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہو ، اس میں کوئی رخنہ ڈالنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔وہ جمعرات کو وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا مفتی عبدالشکور کے ہمراہ پاکستان میں تحریف شدہ قرآن پاک کی اشاعت کی روک تھام پر عملدرآمد سے متعلق اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ قرآن پاک کی حفاظت اللہ تعالی نے اپنے ذمے لی ہوئی ہے ،ایک سنجیدہ کوشش ہے کہ اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے ،یہ عمل قابل ثواب اور قابل ستائش عمل ہے ، آج ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وزارت مذہبی امور عربی اور اردو میں ایک مستند نسخہ مرتب کر کے صوبائی قرآن بورڈ سے تائید حاصل کرنے کے بعد قرآن پاک کا وہ نسخہ ہر ضلع، تحصیل اور ڈویژن سطح تک پہنچایا جائے گا، تمام صوبائی حکومتیں اور وزارت امور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ قرآن پاک کا نسخہ کسی قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہو ، اس میں کوئی رخنہ ڈالنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی قرآن پاک کے ترجمے کے غلط روش کو ڈھال کر بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس عمل کی دین اور دنیا میں کوئی معافی نہیں ہے ،بعض لوگ بے راہ روی کا شکار ہیں ، اس پر ایف آئی اے سائبر ونگ، پی ٹی اے کو بھی اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ وزارت مذہبی امور کے قریبی تعاون کے ساتھ اس عمل کو دیکھے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسالک کے جید علما کرام کو بیٹھا کر ایک ترجمے پر اتفاق کیا گیا ہے ، اس ترجمے کو تمام صوبوں کے قرآن بورڈ کو بھجوا رہے ہیں جو اس کا باغور جائزہ لیں گے ،صوبوں کے قرآن بورڈ کی تائید کے بعد اس ترجمے والے قرآن پاک کے نسخے تمام ڈویژنز، اضلاع ، تحصیلوں تک تقسیم کرائے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ قرآن پاک کے ترجمے کو غلط کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ہر مسلک کا اپنا نقطہ نظر ہے ، تمام نقطہ نظر ہم سب کے لئے احترام کے قابل ہیں ، یہ وہ اختلاف ہے جس کے بارے میں حضور ؐ نے فرمایا کہ علمی اختلاف میری امت کے لئے باعث رحمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز ایک خط میڈیا کی زینت بنا ہے ، اس پر وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہر وہ پاکستانی جو کسی بھی وجہ سے ایسے عمل کا شکار ہوا جو قابل مواخذہ ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ قانونی عمل سے گذر کر ریاست کو یقین دہانی کروائے کہ وہ ریاست کے وجود ، قانون اور آئین کو تسلیم کرتا ہے ،ایسی صورت میں معاملہ ٹھیک ہوسکتا ہے لیکن کسی بھی ایسی تنظیم یا فرد سے جو عوام یا ریاست کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہو اس کے ساتھ بات چیت یا مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا ، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دہشت گرد تنظیم یا فرد سے مذاکرات نہیں ہونگے جہاں تک معاملہ افغانستان کا ہے ، اگر اس بارے کوئی بات ہوگی تو وہ افغان حکومت سے ہوگی ،پاکستان باور کرائے گا کہ جو پاکستان سمیت پوری دنیا سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اپنی سرزمین کے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ،اس وعدے پر عمل ہوتا ہے تو پاکستان سمیت دنیا میں دہشت گردی کا معاملہ حل اور پاکستان محفوظ ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان دو نمبر آدمی ہے ، دو ماہ ہوچکے ہیں گولی لگی نہیں ہے لیکن ایسا ڈرامہ کر رہا ہے جیسا فائر لگا ہے ، اگر صحیح فائر لگا ہوتا تو اتنے عرصے میں زخم ٹھیک ہوجاتا ، اب عمران خان کہہ رہے کہ مزید کچھ وقت آرام کرنا ہے ، اسی طرح توشہ خانہ میں بھی عمران خان کا گٹھیا کردار سامنے آیا ہے، عمران خان نے پورا توشہ خانہ ہی بیچ ڈالا ۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان مخالفین پر جھوٹے مقدمے بنوا رہا تھا اسی ٹائم پر خود چوری کر رہا تھا ، یہ بدبخت انسان ہے اور دعوی کرتا ہے کہ قوم مجھے لیڈر کے طو ر تسلیم کرے ، القادر ٹرسٹ کے نام پر اربوں کی اراضی ہے اس ٹرسٹ کے دو ممبران ہیں ۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان حملے سے متعلق ایک جے آئی ٹی بنائی ہے اس کا سربراہ غلام محمد ڈوگر کو بنایا گیا ہے ،وہ شخص متنازعہ ہے ،اس کی کوئی رپورٹ تیار نہیں ہوئی نہ عدالت میں پیش ہوئی لیکن فواد چوہدری کو کیسے جے آئی ٹی رپورٹ کا پتہ چل گیا ہے ۔ اس واقعہ کا ملزم نوید ہے اس کے علاوہ کوئی ملزم نہیں ہے ، اس نے جو بیان دیا وہ 100 فیصد درست ہے جتنی مرضی انوسٹی گیشن کریں یا اور بھی کوئی جانبدارانہ جے آئی ٹی بنا لیں کوئی دوسرا ملزم اس کیس کا نہیں ہے ۔ اس واقعہ کی متعدد فوٹیج موجود ہے جس میں نوید نے فائرنگ کی اور ایک گولی کنٹینر سے چلی ہے وہ معظم کو لگی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک فراڈیا کہتا ہے کہ کپڑوں سے چار گولیاں برآمد ہوئیں کیا یہ ٹافیاں تھیں جو کپڑوں کو لگی لیکن ہوا کچھ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہاں پر کوئی اور آدمی ہوتا تو وہ فوٹیج میں بھی آتا اور پکڑا بھی جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لئے سیاسی استحکام ضروری ہے ، عمران خان نے چار سال سیاسی عدم استحکام پیدا کیا ، اس شخص نے مخالفین کے خلاف مہم شروع کی ،جھوٹے مقدمات بنائے جس وجہ سے سیاسی عدم استحکام ہوا ۔ موجودہ اتحادی حکومت ملک کو معاشی طور پر بہتر کررہی ہے دوسری طرف عمران خان ملک کو دیوالیہ کرنے کی مہم چلا رہا ہے، یہ ملک دشمنی ہے ،قوم کو اس کا ادراک کرنا چاہیے ،اس کا ووٹ کے ذریعے سدباب کرنا چاہیے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ توشہ خان کیس ،فارن فنڈنگ کیس ، القادر ٹرسٹ وائیٹ کالر کرائم ہے ،تحقیقات میں وقت لگتا ہے تمام پر کام ہورہا ہے جو حتمی مرحلے میں داخل ہورہی ہیں ۔وفاقی وزیر امور مولانا مفتی عبدالشکور نے کہا کہ ہماری وزارت تمام محکموں، صوبوں اور سٹیک ہولڈرز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے ، جو بھی گستاخی کریں گے وہ سزا کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ جو سوشل میڈیا پر قرآن پاک کی آیات سے متعلق غلط استعمال کرتے ہیں انھیں بھی متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سے اجنتاب کریں ، اس معاملے پر پوری امت حساس ہے ، ہم سب کی ذمہ داری ہے اس کو پورا کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چناب نگر کے حوالے سے جو چیزیں سامنے آئیں ہیں اس حوالے سے عدالت عالیہ نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں قادنیوںسمیت جو بھی ذمہ دار ہے انھیں سزا دینا حکومت کا فرض ہے، صوبے اس بارے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے میں ملوث لوگ مارے جانے کی معلومات آئیں ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہے ، ہمارا یہ ہی مطالبہ ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے سفارتخانے میں موجود پاکستانیووں کا تحفظ یقینی بنایا جائے ۔