Your theme is not active, some feature may not work. Buy a valid license from stylothemes.com

اسلام آباد دھماکے کے ملزم کی شناخت ،دو سہولت کاروں کی تلاش جاری

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد آئی ٹین خود کش حملے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے اسلام آباد پولیس متحرک ۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خودکش حملہ آور کرک سے مردان گیا تھا، وہاں ایک سہولت کار کے ساتھ رات بھر رہا اور پھر صوابی چلا گیا جہاں وہ راولپنڈی کے پیرودھائی بس ٹرمینل تک پہنچنے کے لئے گاڑی لے کر گیا۔ دہشت گردی کے مقدمے کے تفتیش کاروں نے خودکش حملہ آور کی شناخت کر لی، اور وہ ان دو مشتبہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں جنہوں نے اسے صوبہ خیبر پختونخوا اور راولپنڈی پہنچانے کے ساتھ ساتھ 23 دسمبر کو دھماکے میں مدد کی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ فارنزک ماہرین چھوٹی انگلی کو صاف اور اس سے انگلیوں کے نشانات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کے نتیجے میں اس کی شناخت ہوگئی، موقع سے ملنے والی ایک سم کی بھی وہی تفصیلات تھیں جو فنگر پرنٹس سے لی گئی تھیں۔

ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کے دو سہولت کار تھے، ایک اسے 23 دسمبر کو اسلام آباد لایا اور راولپنڈی میں موجود دوسرے شخص نے خودکش جیکٹ اس کے حوالے کی۔ابھی تک اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ آیا انہوں نے دھماکا کرنے کے لیے تیار خودکش جیکٹ کے ساتھ سفر کیا تھا یا نہیں کیونکہ ایک تیار خود کش جیکٹ کے ساتھ سفر کرنا بہت خطرناک تھا۔خیال کیا جاتا ہے کہ راولپنڈی میں بس ٹرمینل کے قریبی علاقے میں ایک اور سہولت کار موجود تھا جو بمبار کے پاس جیکٹ لے کر آیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ بمبار نے پیر ودھائی پہنچ کر کال بھی کی اور کسی سے بات کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جس شخص سے بمبار نے بات کی تھی، وہ وہی تھا جس نے خودکش جیکٹ کا انتظام کیا تھا۔
اس سے قبل تفتیش کاروں کو جائے وقوع سے بمبار کی کچھ باقیات ملی تھیں جن میں اس کی چار انگلیاں بھی شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ خودکش حملہ آور خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کا رہنے والا تھا اور اس کی شناخت 22 سالہ ثاقب الدین کے نام سے ہوئی ہے۔