اسلام آباد(اے بی این نیوز) وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک انتہائی غریب ملک پرپنشن کا بہت بڑا بوجھ ہے جو کہ 800 ارب تک پہنچ چکا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پنشن سے متعلق ریفارمز کی کوشش کر رہے ہیں، پنشن کیش اکاؤنٹنگ مستقبل میں ناقابل برداشت ہو جائے گا۔دو پیشن سے متعلق معاملہ واضح کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ دو یا دو سے زیادہ پنشن والے گریڈ 17 یا اس سے اوپر کے افسران ایک پینشن کے حقدار ہوں گے۔وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ایک زیادہ پینشن والے افسران اپنی چوائس پر کسی ایک پینش کا انتخاب کر سکیں گے، ریٹائرڈ سرکاری افسر کے انتقال پر بیوہ پنشن لے سکے گی۔ سرکاری افسر اور شریک حیات دونوں کی وفات پر بچوں کو 10 سال پینشن ملے گی۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وفاقی وزیر غوث بخش مہر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں زراعت پر سبسڈی دینے کے بجائے سبسڈی ختم کی جا رہی ہے، زراعت کو تحفظ دیا جائے جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، زراعت کو سبسڈی دیا جانا ضروری ہے۔خورشید شاہ نے اپوزیشن رکن غوث بخش مہر کے مطالبے کی حمایت کر دی۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا کہ زراعت کے معاملے پر بجٹ اجلاس کے بعد مل کر معاملات حل کرلیں گے۔















