چیئرمین این ڈی ایم اے کی سٹیک ہولڈرز کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لیے مربوط کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزارت تحفظ خوراک و تحقیق نے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر ( این ای او سی) کو بتایا ہے کہ امسال 1.2 ملین ایکٹر رقبے پر سرسوں اور سورج مکھی کی کاشت کا تخمینہ لگایا گیا ہے،سندھ میں تقریبا 80فیصد کاشت کا ہدف حاصل کرلیا گیا ہے ۔منگل کو نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کا اجلاس چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارت تحفظ خوراک و تحقیق ، وزارت قومی صحت، محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی)، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی)، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم اے) اور جی بی اور سندھ کے محکمہ آبپاشی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے اپنے صوبوں کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔محکمہ آبپاشی سندھ نے بتایا کہ دریائے سندھ کے دائیں اور بائیں کنارے سے 95 فیصد سیلابی پانی نکال لیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات نے موسم کا منظر نامہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں جنوری کا پہلا ہفتہ سرد رہے گا،جبکہ شمالی اور مشرقی پنجاب میں دھند کا راج ہو گا۔ اجلاس میں وزارت قومی صحت نے سیلاب سے متاثرہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے لیے گھروں کی تعمیر سے متعلق پیش رفت سےشرکا کو آگاہ کیا۔ این ایچ اے نے بلوچستان میں لنڈا پل کی بحالی سے متعلق اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ڈھانچے کی نظرثانی شدہ ڈیزائننگ مکمل کر لی گئی ہے اور تنصیب کا عمل جاری ہے۔ این آئی ٹی بی نے امداد فراہم کرنے کے لیے ڈیجیٹل ایپلیکیشن پر کسانوں کی رجسٹریشن کے بارے میں آگاہ کیا۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کے جاری منصوبوں میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام کو تیزی سے انجام دینے کے لیے مربوط کوششیں جاری رکھیں ۔