اسلام آباد ( اے بی این نیوز )پنجاب انتخابات ازخودنوٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ،43 صفحات پر مشتمل اکثریتی فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا،بروقت انتخابات کا انعقاد پارلیمانی جمہوریت کیلئے انتہائی ضروری ہے،قانون میں خلاء ہونے کو انتخابات کی تاریخ نہ دینے کی وجہ نہیں بنایا جا سکتا،سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ پانچ رکنی بینچ ہونے کی وجوہات بھی بتا دیں ،چیف جسٹس نے ازخودنوٹس کے لیے نوٹ بھیجنے والے ججز سمیت نو رکنی بینچ تشکیل دیا،جس کے بعد چیف جسٹس پاکستان نے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا،7 رکنی بینچ کبھی تشکیل نہیں دیا گیا تھا،جب سات رکنی بینچ تھا ہی نہیں تو 4:3 کا فیصلہ بھی نہیں ہو سکتا،بینچ کی بجائے صرف ججز کی تعداد پر ہی فوکس کرنا سپریم کورٹ کے 27 فروری کے فیصلے کے پابندی کو توڑنے کیلئے تھا،فیصلے بینچز کرتے ہیں ججز نہیں،فیصلے کو 3-4 کا تناسب دینا گمراہ کن ہے،ہر اسمبلی کو الگ یونٹ اور الگ اختیار کی حیثیت حاصل ہے،قبل از وقت اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں نئے انتخابات کیلئے آئین نے مکمل طریقہ کار طے کررکھا ہے۔















