وزارت خارجہ 2023ء کے دوران مختلف عالمی ،علاقائی فورمز، ملٹی نیشنل اداروں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی وسعت ،استحکام کیلئےاقدامات کرے گی ، وزیر خارجہ کا سال نو پر ویڈیو پیغام

اسلام آباد( نیوز ڈیسک)وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے قوم کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت خارجہ 2023ء کے دوران مختلف عالمی ، علاقائی فورمزاور ملٹی نیشنل اداروں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی وسعت اور استحکام کیلئے اقدامات کرے گی ، ہماری اتحادی حکومت کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کی دوستیوں میں اضافہ ہے ، ہم پاکستان کے مفادات کا دفاع اور نمائندگی کرنا جانتے ہیں، کاپ کانفرنس کی میزبانی نہ صرف پاکستان بلکہ ترقی پذیر ممالک کیلئے بھی خوش آئند ہے، پاکستان واحد ملک ہے جس نے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کو قبل از وقت مکمل کیا۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ رواں سال اقتصادی سفارتکاری پر زوردیا جائے گا تاکہ پاکستان کےجی ایس پی پلس سٹیٹس کی تجدید ہو سکے جس سے یورپی یونین کے ممالک کی منڈیوں تک رسائی میں بہتری آئے گی، جی ایس پی پلس کی سہولت کے بعد یورپی یونین کو کی جانے والی قومی برآمدات میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ وزیر خارجہ نے دفتر خارجہ کی جانب سے پوری قوم کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سفارتکار، افسران ، وزارت خارجہ کے حکام اورسفارتخانوں میں کام کرنے والے تمام افراد دن رات محنت کر رہے ہیں تاکہ پاکستانیوں کے مسائل کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے اور ان کی بھرپور نمائندگی کی جا سکے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری اتحادی حکومت کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کی دوستیوں میں اضافہ ہے اور پاکستان کے پرانے دوستوں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں بہتری لانا ہے، اسی طرح پاکستان نئے دوست بھی بنائے گا اور ان سے بہترین تعلقات استوار کرے گا تاکہ پاکستان کے عوام کیلئے بہتری لائی جا سکے اور ان تعلقات کی وجہ سے عوام کو فائدہ پہنچے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پر جب اورجہاں بھی الزام تراشی کی گئی اور ملک کے بارے میں غلط الفاظ استعمال کئے گئے ،ہم نے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس قابل ہیں کہ جواب دے سکیں، اس کی تازہ مثال ہے کہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر جب بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے تو ہم نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھارت کو جواب دیا اور اس کوآئینہ دکھایا ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم پاکستان کے مفادات کا دفاع اور نمائندگی کرنا جانتے ہیں اور پاکستان کی عوام کو بھرپور فائدہ پہنچانا جانتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے چین ، اقوام متحدہ، نیویارک، ترکی، سعودی عرب ، خلیجی ممالک کے علاوہ مختلف ملکوں کے دورے کئے اور اسی طرح دفتر خارجہ بھی بہت سے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دے رہا ہے جس میں یورپ ، افریقی ممالک اور ہمسایہ ممالک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جی 77 اور ملٹی نیشنل اداروں کے ساتھ قومی تعلقات کو بھی مستحکم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاپ کانفرنس کی میزبانی نہ صرف پاکستان بلکہ ترقی پذیر ممالک کیلئے بھی خوش آئند ہے، جس میں ماحولیاتی نقصانات کے ازالہ کیلئے فنڈ کے قیام کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا جو ترقی پذیر دنیا کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ کی ٹیم نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے انتھک محنت کی ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جس نے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کو قبل از وقت مکمل کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو استعمال کر کے اپنا کردار ادا کیا اور بعض ممالک کی پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کی خواہش کو ناکام بنایاجس کے نتیجے میں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی۔ ایف اے ٹی ایف نے اتفاق رائے سے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں عالمی، علاقائی فورمز اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعلقات کی وسعت اور استحکام کے حوالہ سے اقدامات جاری رکھے گا۔