دنیا کی 10بدترین کارکردگی والی مارکیٹوں میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ 8ویں نمبر پر آگئی، شیئرز کی قیمتیں گرنے سے 1184ارب روپے کا نقصان ہوا

کراچی ( نیوز ڈیسک ) کلینڈرسال2022ءپاکستان اسٹاک مارکیٹ کیلئے انتہائی مایوس کن ثابت ہوا ، مندی کی وجہ سے4400پوائنٹس مارکیٹ سے نکل گئے جبکہ ماہ دسمبر میں بھی سرمایہ کاروں کے لئے اچھی خبروں کے فقدان سے صرف ایک ماہ میں 2200پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔اسٹاک ماہرین کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور2014ءکے بعد پہلی بار زرمبادلہ کے ذخائر 6ارب ڈالر سے نیچے آنے سے پاکستان کو معاشی ابتری کا سامنا ہے ماہ جنوری2023ءمیں ایک ارب ڈالر قرض کی واپسی ،جبکہ اگلے 3ماہ میں 3ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنے کی ڈیڈ لائن ،یو اے ای کو ادائیگی پر سرمایہ کارپریشان ہیں۔ چین کا قرضہ رول اوور ہونے کی توقعات پر پاکستا ن اسٹاک مارکیٹ کا نئے کلینڈر سال2023ءمیں نئی امید کیساتھ داخل ہونے کا امکان ہے تاہم نئے سال کے معاشی اشاریئے ہی مارکیٹ کی درست سمت کا تعین کرینگے۔معاشی ماہرین کے مطابق سال2022میں حکومت کی تبدیلی اور سیاسی کشمکش جاری رہی اور مہنگائی اور معاشی مشکلات کو بدترین سیلابی صورتحال نے عروج پر پہنچا دیا جس کے منفی اثرات اسٹاک مارکیٹ میں بھی دیکھنے میں آئے اور مجموعی طور پر منفی رجحان غالب رہا۔مندی کے سبب مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں بھی15فیصد کمی ہوئی جس سے سرمایہ کاروں کو شیئرز کی قیمتیں گرنے کے باعث1184ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑاجبکہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے اوسط یومیہ کاروباری حجم بھی پچھلے سال کے مقابلے میں 59فیصد کم رہا۔بلوم برگ کے مطابق دنیا کے 10خراب کارکردگی دکھانے والی اسٹاک مارکیٹوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔سال2022میں سری لنکا کی اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی سب سے خراب رہی اس کے بعد دوسرے نمبر پر گھانا،تیسرے نمبر پرروس،چوتھے نمبر پر ویتنام،پانچویں نمبر پرویتنام، تائیوان،چھٹے نمبر پرکینیا،ساتویں نمبر پر منگولیا اور آٹھویں نمبر پر پاکستان رہا۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات آئندہ سال بھی برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ الیکشن سال ہونے کی وجہ سے سیاسی کشمکش بھی جاری رہے گی جس کے اثرات سال2023میں بھی اسٹاک مارکیٹ میں دیکھے جائیں گے۔