پارلیمنٹ عمران خان کی خواہش پر نہیں آئین اور قانون کے مطابق چلے گی، فیصل کریم کنڈی

لاہور( نیوز ڈیسک )وزیر مملکت برائے تخفیف غربت و سماجی بہبود فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ٹیکنو کریٹ حکومت کے حوالے سے عمران خان روزانہ نیا خواب دیکھتے ہیں،پارلیمنٹ عمران خان کی خواہش پر نہیں آئین اور قانون کے مطابق چلے گی،عمران خان سنجیدہ ہیں تو پنجاب اور کے پی کے اسمبلیاں توڑیں،سیلاب متاثرین آ ج بھی عمران خان کے 15 ارب روپے کے منتظر ہیں،98 فیصد سیلاب متاثرین تک بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رقم پہنچائی جا چکی ہے،عمران خان کے دور میں 8 سے9 لاکھ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کارڈز بندکئے گئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں پیپلز پارٹی سنٹرل سیکرٹریٹ میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر خالد جاوید جان،بیرسٹر عامر،ذیشان شامی،ڈاکٹر شائستہ جان،چودھری سجاد نذیر اور رانا خالد بھی موجود تھے۔وزیر مملکت نے کہا کہ عمران خان نے کہاں سے سن لیا ہے کہ دو سال کیلئے ٹیکنوکریٹ کی حکومت آ رہی ہے،کبھی کہتے ہیں مارچ اپریل میں الیکشن نظر آرہے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت ڈیڑھ دوماہ میں ختم ہوجائے گی،عمران خان ایک بیانیہ دیں تا کہ اس پر ڈبیٹ کی جاسکے، پی ٹی آئی والے پارلیمنٹ میں آئیں اور اپنے مطالبات پیش کریں کیونکہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی استعفے دینا چاہتے ہیں تو دے دیں حکومت ان کے حلقوں میں الیکشن کروانے کیلئے تیار ہے، استعفے منظور کر نے کا ایک طریقہ کار ہے،جس کے تحت ان کے استعفے منظور کئے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان سنجیدہ ہیں تو پنجاب اور کے پی کے کی اسمبلیاں توڑیں لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کا پروٹوکول ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آ ئی کی اتحادی حکومت کے چار برس مکمل ہو چکے ہیں مگر سموگ سے لاہورکا ماحول آلودہ ہے، صوبے میں لا اینڈ آ ڈر کی صورتحال ابتر ہے۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اسمبلی توڑنے کے حوالے سے شاہ محمود قریشی،فوا د چوہدری اور اسد عمر چودھریوں کے دربار میں منتیں کر ر ہے ہیں،پرویز الہی کے پاس ممبرز کی تعداد پوری نہیں ہے اس لئے وہ اعتماد کا ووٹ نہیں لے رہے۔ ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ خواہشات پر کوئی پابندی نہیں،اگر دس سیٹوں والا وزیر اعلی بن سکتا ہے تو 7سیٹوں والا کیوں نہیں تاہم میرٹ پر ن لیگ کا حق بنتا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی خراب معیشت ہمیں ورثے میں ملی،پاکستانی معیشت اس وقت مشکلات کا شکار ہے جسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر ر ہے ہیں، عمران خان نے اپنے دور میں ملکی معیشت پر توجہ دینے کی بجائے مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ 2008 اور آج کے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال میں بہت فرق ہے،9 برس کے بعد صوبے کی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے کیونکہ خیبر پختونخوا کی آدھی سے زیادہ پولیس پی ٹی آئی والوں کیساتھ پھر رہی ہے۔وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ عمران خان نے صرف لوگوں کی پگڑیاں اچھالی ہیں،وہ ملک کے قانون اور آ ئین کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے ہیں جو کسی صورت ممکن نہیں، پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ صوبہ کے پی کے میں گورنر راج آ جائے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے دور میں چین،امریکہ اور دیگر ممالک کیساتھ تعلقات خراب کئے،انکی خواہش تھی کہ ”سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے”۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے دور میں غریبوں کو دیئے گئے لاکھوں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کارڈز بند کئے تھے ان میں اکثریتی بند کارڈز کو بحال کر رہے ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پنجاب میں 139بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفاتر موجود ہیں جبکہ متعدد تحصیلوں میں مزید نئے سنٹرز کھولے جارہے ہیں جہاں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریبوں کی امداد کیلئے ان کی رجسٹریشن کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ تمام خواجہ سرا کو بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کیا جارہاہے،پہلے وہ اپنا شناختی کارڈ بنوائیں گے پھر ان کو اس پروگرام میں رجسٹرڈ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم15جنوری سے ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا سروے کررہے ہیں جن میں صوبہ بلوچستان،سندھ کے 22 اضلاع،پنجاب کے 3 اضلاع اور کے پی کے کے 4 اضلاع شامل ہیں،ان علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ غریب افراد کی رجسٹریشن کی جائے گی اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ان کی مالی امداد کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ فراڈیے جعلی فارم لیکر پھر ر ہے ہیں،ان سے خبردار رہیں، یہ تاثر غلط ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کارڈ 2 سے 3 ہزار روپے لیکر دیا جاتا ہے،جب تک کوئی سرکاری ملازم آپ کے پاس نہیں آتا آپ نے کسی کو کوئی رقم یا رجسٹریشن کے حوالے سے دستا ویزات نہیں دینی۔