صدرعارف علوی اوراسحق ڈار کی ملاقاتوں میں بریک تھرو نہیں ہوا، فواد چوہدری

لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جب سے جنرل عاصم منیر نے کمان سنبھالی ہے فرق پڑا ہے، ہم اسٹیبلشمنٹ سے بنا کر رکھنے کے خواہاں ہیں۔ایک انٹرویومیں فواد چوہدری نے کہا کہ 3 بار قمر باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کو کہا گیا کہ عمران خان آپ کو ڈی نوٹیفائی کریں گے، عمران خان نے ایسا کچھ سوچا تک نہ تھا کہ کسی کو ڈی نوٹیفائی کریں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ایک تو ہر وقت ریکارڈنگز ہوتی رہتی ہیں یہ بھی بڑا مسئلہ ہے، اصطلاح سے ہٹ کر بات بتائی جائے تو لگتا ہے جیسے سازش ہورہی ہو۔فواد چوہدری سے صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے قمر باجوہ کے بارے میں بات کی تو اب پرویز الہٰی کے غصے کیلئے تیار ہیں؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب عمران خان پرویز الہٰی سے تو گائیڈ لائن نہیں لیں گے، پرویز الہٰی نے غصے میں بات کردی ہوگی وہ کسی کو کچھ نہیں کہیں گے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد جیسے آئی، چیف سیکریٹری نے نوٹیفکیشن کیا اس سے تاثر بنتا ہے، اب کوئی ڈبل گیم کرے یا ٹرپل، اسمبلی تو توڑنی پڑے گی، چیف سیکریٹری نے کہا لوگ ان کے کمرے میں آئے لیکن لگتا ہے ایسا نہیں ہوا، چیف سیکریٹری نے اداروں پر ڈالنے کی کوشش کی اصل میں وہ رانا ثناء اللّٰہ تھے۔فواد چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کو بھی خوش کرلیں اور یہ بھی اکٹھے رہ لیں، صدر علوی اور اسحاق ڈار کی ملاقاتوں میں بریک تھرو نہیں ہوا، ان کی حکمت عملی ہے عمران خان کو نا اہل کرکے کرمنل کیسز بنائیں، پھر ایک سال انتخابات ملتوی کیے جائیں، اس دوران یہ سیاسی طور پر دوبارہ کچھ حاصل کرلیں۔انہوں نے کہا کہ آپ دوبارہ سیاسی پوزیشن نہیں لے سکیں گے آپ سے معیشت نہیں سنبھلے گی، اس وقت زرداری، نواز کے ساتھ کھڑا ہونا مصیبت ہے، پاکستان میں پہلے اسٹیبلشمنٹ تھی، اب عمران خان بھی حقیقت ہے، جو اس حقیقت کو نظر انداز کرے گا وہ اپنا اور ملک کا نقصان کرے گا۔فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت جانے کے بعد بھی کہا گیا کوئی مسئلہ ہی نہیں الیکشن ہو رہے ہیں، اب نا معلوم کالز نہیں آ رہیں اور میڈیا پر بھی عمران خان بلاک نہیں ہو رہا۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ کچھ منفی چیزیں بھی ہیں جس میں ایم پی ایز نےکہا انہیں کالز آ رہی ہیں، ہوسکتا ہے ایم پی ایز اپنی اہمیت بتانے کیلئے ایسی باتیں کر رہے ہوں۔