ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں خلائی ٹیکنالوجی کا کردار ناگزیر ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کسی ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے خلائی ٹیکنالوجی کا کردار ناگزیر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) اور وزارت منصوبہ بندی کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی سید ظفر علی شاہ، چیف اکانومسٹ ندیم جاوید، چیئرمین سپارکو اور مختلف وزارتوں اور ڈویڑنوں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوے وفاقی وزیر نے خلائی ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی کا شعبہ تعلیم، زراعت، صحت اور موسمیاتی تبدیلی کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مختلف شعبوں بالخصوص روبوٹک اور بائیو ٹیکنالوجی میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں تاہم خلائی ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اور پاکستان کو دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے کئی ترقیاتی منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی جن میں خلائی ٹیکنالوجی سے منصوبوں کی لاگت کو کم کرنے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل میں بڑی مدد ملی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان وہ اہداف حاصل نہیں کرسکا جو دیگر ممالک نے اپنی پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے حاصل کئے۔وفاقی وزیر نے وزارتوں اور ڈویڑنوں پر زور دیا کہ وہ سپارکو کی جانب سے شیئر کی جانے والی معلومات سے فائدہ اٹھائیں۔ سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی کمیشن سید ظفر علی شاہ نے اپنے ریمارکس میں خلائی ٹیکنالوجی کا ملکی ترقی میں کردار کلیدی قرار دیتے ہوئے شرکائ کو بتایا کہ وزارت نے خلائی ٹیکنالوجی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کوایس ڈی جیز میں رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت ہمیشہ جدید ٹیکنالوجی لانے کے لئے پہل کرتی ہے اور جیو اسپیشل ٹیکنالوجی سیل اس کی مثال ہے جو حال ہی میں وزارت منصوبہ بندی میں قائم کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی نے حالیہ سیلاب خاص طور پر آفات کے بعد کی ضرورت کی تشخیص پی ڈی این اے میں حکومت کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی موسمیاتی تبدیلی، وسائل کی نگرانی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور صحت اور تعلیم کے شعبوں میں لاتعداد چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔چیف اکانومسٹ وزارت منصوبہ بندی ندیم جاوید نے خلائی ٹیکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے شرکاءکو ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی۔انہوں نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی سے ڈویلپمنٹ منصوبوں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹ کے ذریعے بروقت اور قابل اعتماد معلومات کی فراہمی بہتر فیصلہ سازی میں مدد کرے گی۔سپارکو کے چیئرمین میجر جنرل عامر ندیم نے اپنے خطاب میں زرعی نگرانی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، جنگلات کے تخمینہ اور نگرانی، ماحولیات اور GIS پر مبنی گورننس پلاننگ سے متعلق اہم اقدامات پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔