پاکستان میں روزانہ 20 کروڑ روپے کی شراب نوشی کا انکشاف

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معاشی مشکلات کے باوجود ملک بھر میں روزانہ 20 کروڑ روپے کی شراب نوشی کا انکشاف ہوا ہے۔ انکشاف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کے اجلاس میں سینیٹر مشتاق احمد نے کیا۔اقلیتوں کے نام پر شراب نوشی کی اجازت ختم کرنے کےلیے بل ڈیڑھ سال سے زیرالتواء ہونے پر سینیٹرمشتاق احمد اجلاس میں پھٹ پڑے۔سینیٹرمشتاق احمد کا کہنا تھا کہ شراب جرائم کی جڑ ہے، آئین میں جو اس کی اجازت دی گئی ہے۔ میں اس کو ختم کرنا چاہتا ہوں، اقلیتیں بھی میرے ساتھ ہیں۔ کمیٹی نے بل میں ترمیم کا معاملہ آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا۔سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ معاملے کو اگلے اجلاس تک مؤخر کیا ہے کیونکہ جب بھی کوئی آئینی ترمیم ہوتی ہے تو اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ سب کی مشاورت سے اس کو مسترد یا پاس کریں۔سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے پر کمیٹی نے پرپوزل رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھیجوانے کا فیصلہ کیا جبکہ سینیٹر مشتاق احمد نے آزادی اظہار رائے سے متعلق آرٹیکل 19 میں ترمیم سے متعلق بل بھی پیش کیا جسے کمیٹی نے مسترد کردیا۔خواتین ججز کی تعداد بڑھانے سے متعلق بل پر بحث کے دوران وزیر مملکت قانون وانصاف شہادت اعوان نے کہا کہ کوٹے پر ججز کی تعیناتی سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔