عدلیہ حکومت کرنا چاہتی ہے نہ ہی کرے گی،چیف جسٹس آف پاکستان

اسلام آباد (نیوزڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کا ریمارکس میں کہنا ہے کہ کرپشن سےزندہ رہنے کا حق زخمی ہوا ہے۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے کہا کہ قدیم معاشرے میں زندہ رہنے کا حق محض روٹی، کپڑا اور مکان سے پورا ہوتا ہو گا، آج کے زمانے میں زندہ رہنے کے لیے تعلیم اور صحت سمیت سہولتیں لازم ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آج 2 اغواء شدہ بچیاں 6 سال بعد بازیاب ہوئیں کیونکہ کوئی نظام ہی نہیں، پولیس کو بچیوں کی بازیابی کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیوں کا سہارا لینا پڑا، پولیس میں صلاحیت کا فقدان اصل میں شہریوں کے زندہ رہنے کے حق کی خلاف ورزی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ واضح کہہ چکے ہیں کہ عدلیہ حکومت کرنا چاہتی ہے نہ ہی کرے گی، کئی سو نیب کیسز عدالتوں سے واپس ہو رہے ہیں، نیب ترامیم نے زیرِ التواء کیسز کا دروازہ بند کردیا ہے، نیب ترامیم کو 8 ماہ ہو گئے مگر ان کے باقاعدہ نفاذ یا کیسز کی منتقلی کا طریقہ نہیں بنایا جا سکا۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ حکومت کے پاس نیب قانون میں الفاظ بدلنے کا وقت ہے تو کیسز منتقلی کا طریقہ کار بنانے کا کیوں نہیں؟چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ اگر احتساب عدالت کے منتقل کیسز کو اینٹی کرپشن دائرہ اختیار سے خارج قرار دے تو کیا ہو گا؟وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ نیب قانون سے پہلے بھی 50 سال ملک میں کرپشن کے کیسز نمٹائے گئے تھے۔عدالتِ عظمیٰ نے کیس کی مزید سماعت 16 فروری تک ملتوی کر دی ۔