خطے کی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز ( strait of hormuz)کے حوالے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں امریکی فوجی حکام کے مطابق اب محاصرہ صرف آبنائے تک محدود نہیں رہا بلکہ مشرق میں خلیج عمان اور بحیرہ عرب تک وسیع کر دیا گیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس نئے بحری منصوبے کے تحت ممنوعہ زون میں داخل ہونے والے کسی بھی جہاز کو یا تو واپس موڑ دیا جائے گا یا پھر اسے تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قوانین کسی مخصوص پرچم تک محدود نہیں بلکہ تمام ممالک کے جہازوں پر لاگو ہوں گے۔
مزید پڑھیں :آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع ،کشیدگی بڑھ گئی،عرب میڈیا
اعلان کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آنے والی ترسیلات کو سخت جانچ پڑتال کے بعد ہی اجازت دی جائے گی، جبکہ ایسے جہاز جو ایران سے نہ جا رہے ہوں اور نہ ہی ایران کی طرف آ رہے ہوں، انہیں محدود حالات میں سفر کی اجازت دی جا سکتی ہے۔بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ غیر جانبدار تجارتی جہاز بھی سخت معائنے اور سیکیورٹی چیک کے بعد اپنی نقل و حرکت جاری رکھ سکیں گے، تاہم اس دوران کسی بھی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔















