وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشیدگی ( jung )کے بادل چھٹنے کی امیدیں بڑھ رہی ہیں اور حالیہ مذاکرات کو پاکستان کے لیے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ملنے والے اس نادر موقع کو مستقل امن اور استحکام میں بدلنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ( shehbaz shrief)کیونکہ عالمی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ قومیں کڑے حالات سے نکل کر ہی اپنا مقام بناتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے نہ صرف حالیہ بحران میں بلکہ ماضی میں بھی اہم مصالحتی کردار ادا کیا، خصوصاً افغانستان میں قیام امن کی کوششیں اس کی مثال ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی قیادت اور بڑی معاشی طاقتیں خطے میں پاکستان کی امن کوششوں کو تسلیم کر رہی ہیں، جبکہ جاپان اور یورپی ممالک کے رہنماؤں نے بھی مذاکرات کی کامیابی پر پاکستان کو سراہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے۔
مزید پڑھیں :مزید پڑھیں :سونا ،چاندی اپ ڈیٹ آگئی،جا نئے کتنا سستا ہوا،فی تولہ قیمت کیا ہے
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عارضی سیز فائر دراصل 24 کروڑ عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے اور حکومت باقی ماندہ مسائل کے حل کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے عسکری قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عاصم منیر کی حکمت عملی اور بصیرت کے باعث جنگ بندی ممکن ہوئی، اور سیز فائر کے حصول کے لیے کئی راتوں تک مسلسل محنت کی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق حساس معاملات کو عوام کے سامنے لانا مناسب نہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ بیانات دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔















