افریقی ملک نائجیریا میں ایک بڑے فضائی حملے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 200 تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ واقعہ میدوگوری کے قریب پیش آیا، جہاں شدت پسندوں کی موجودگی کے شبے میں بمباری کی گئی۔خبر ایجنسی کے مطابق نائجیریا ( Nigeria )کی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی میں بوکو حرام کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم بعد ازاں اطلاعات سامنے آئیں کہ حملہ ایک ایسے علاقے کے قریب ہوا جہاں مقامی بازار بھی موجود تھا، جس کے باعث عام شہری بھی زد میں آ سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ فضائی حملہ بورنو ریاست سے ملحقہ یوبی کے سرحدی علاقے میں کیا گیا، جو کئی برسوں سے شورش اور دہشت گردی کا مرکز رہا ہے۔ اس خطے میں جاری بدامنی کے باعث ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں :ایران وینزویلا نہیں، دھمکیوں سے امریکا کی ساکھ ختم ہوچکی،ایران
مقامی حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا یا یہ انٹیلی جنس کی غلطی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔















