ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سفارتکاری کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا، تاہم کسی بھی قسم کے غیر قانونی یا یکطرفہ مطالبات کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق مذاکرات کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ دوسرا فریق کس حد تک سنجیدگی اور نیک نیتی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ایرانی وزارت خارج(iran ) کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اہم مذاکراتی نکات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جن میں آبنائے ہرمز ( strait of hormuz )کی صورتحال، جوہری معاملہ، جنگی ہرجانہ اور پابندیوں کے خاتمے جیسے حساس موضوعات شامل تھے۔ اس کے علاوہ خطے میں ممکنہ جنگ کے مکمل خاتمے اور مجموعی علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ مذاکرات کے دوران کئی نکات پر ابتدائی اتفاق رائے سامنے آیا، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ حتمی پیش رفت صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریق سنجیدگی سے بات چیت کریں اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کیا جائے۔
مزید پڑھیں :اسلام آباد میں سیکیورٹی الرٹ، ریڈ زون میں داخلہ محدود، ٹریفک پلان جاری
ایران نے واضح کیا کہ مذاکرات میں پیش رفت کا دارومدار دوسرے فریق کے رویے پر ہے، اور اگر غیر حقیقت پسندانہ یا زیادہ سے زیادہ مطالبات برقرار رہے تو عمل آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ تہران کے مطابق ایران اپنے اصولی مؤقف اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران، پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور سفارتی حل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس موقع پر یہ بھی کہا گیا کہ سفارتکاری کا راستہ کھلا ہے اور اسے بند کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔















