ریاض (اے بی این نیوز) عرب میڈیا ادارے العربیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو 40 روزہ جنگ کے دوران بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔رپورٹ کے مطابق ایران کی معیشت کو تقریباً 140 سے 145 ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچا، جبکہ ملک بھر میں انفراسٹرکچر کو وسیع پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران ہزاروں شہری بے روزگار ہوئے اور صنعتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔ایرانی ہلال احمر کے سربراہ پیرحسین کولیوند کے مطابق جنگ کے دوران ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد غیر فوجی تنصیبات متاثر ہوئیں، جن میں تقریباً ایک لاکھ رہائشی یونٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 23 ہزار سے زائد تجارتی مراکز کو نقصان پہنچا، جس سے کاروباری نظام شدید متاثر ہوا۔
صحت کے شعبے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، جہاں 339 طبی مراکز، بشمول ہسپتال، لیبارٹریاں اور ایمرجنسی یونٹس متاثر ہوئے۔ امدادی سرگرمیوں کے دوران درجنوں ایمبولینسیں اور ریسکیو گاڑیاں بھی حملوں کی زد میں آئیں۔تعلیمی نظام بھی اس تباہی سے محفوظ نہ رہ سکا، کیونکہ 32 جامعات اور 857 تعلیمی اداروں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا۔ اسی طرح بنیادی ڈھانچے میں ہوائی اڈوں، ایندھن ذخیرہ کرنے کے مراکز اور اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دفاعی شعبے کے حوالے سے امریکی سینٹکام کے سربراہ بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا کہ ایران کو شدید فوجی نقصان پہنچا، جس کے باعث اس کے میزائل، بحری اور فضائی نظام متاثر ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق متعدد میزائل پروڈکشن مراکز اور لانچ سائٹس کو بھی نقصان پہنچا، جس سے دفاعی صلاحیت عارضی طور پر کمزور ہوئی ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اچانک جنگ بندی کے اعلان کے بعد یہ 40 روزہ شدید جنگ ختم ہوئی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات طویل عرصے تک ایران کی معیشت اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر مرتب ہوتے رہیں گے۔
مزید پڑھیں :بریکنگ نیوز۔۔۔وزیراعظم شہباز شریف آج قوم سے خطاب کریں گے، اہم اعلان متوقع















