اہم خبریں

جنگ بندی کو 14 دن برقرار رکھنے یا اس میں توسیع پر غور کیا جارہا ہے، سردار مسعود

اسلام آباد (اے بی این نیوز‌)لبنان اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے، جہاں مختلف فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو انتہائی حساس اور سخت مرحلے میں داخل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سردار مسعود نے کہا ہے کہ موجودہ مذاکرات کا ایجنڈا نہایت پیچیدہ اور چیلنجنگ ہے۔ان کے مطابق جنگ بندی سے قبل ہونے والے حملوں اور مسلسل بڑھتی ہوئی تلخی کے باعث مذاکراتی عمل کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اس کے باوجود رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے متحارب فریقین کے درمیان خوشگوار ماحول میں مذاکرات کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ بڑے بحران کو روکا جا سکے۔نگ بندی کو 14 دن برقرار رکھنے یا اس میں توسیع پر غور جاری کیا جارہا ہے۔

سردار مسعود نے کہا کہ اگرچہ عالمی سطح پر دباؤ موجود ہے، لیکن زمینی حقائق اب بھی تشویشناک ہیں اور مکمل استحکام حاصل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی انتظامیہ اور کانگریس کے مختلف اداروں پر اسرائیل کا اثر و رسوخ ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کے باعث بعض پالیسی فیصلوں پر اثر پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے باوجود امریکہ عالمی قوانین کے مکمل نفاذ میں ناکام نظر آتا ہے، جبکہ امریکہ کے اندر اسرائیل کے خلاف عوامی احتجاج کے باوجود پالیسی سازی میں فوری تبدیلی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔

مذاکراتی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کو محدود مدت تک برقرار رکھنے یا اس میں توسیع پر غور جاری ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان بنیادی مطالبات میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایران کی جانب سے مختلف خطوں میں اپنی گورننس کی تسلیم شدگی، نقصانات کے معاوضے، امریکی افواج کے انخلا، معاشی و جوہری پابندیوں کے خاتمے اور اقوام متحدہ کی بعض قراردادوں میں تبدیلی جیسے مطالبات سامنے آئے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو سخت حد تک محدود کیا جائے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔ ان اختلافات کے باوجود مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔ پاکستان اس پورے عمل میں نہ صرف میزبان بلکہ سہولت کار کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، اور مستقبل میں ثالثی و پیغام رسانی کے امکانات بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین، روس اور یورپی ممالک کو بھی ایک ممکنہ ضامن فریم ورک میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ معاہدے کو عالمی سطح پر قابل قبول بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین سے عالمی سطح پر جنگ بندی کے تسلسل کی اپیلیں جاری ہیں، جبکہ انفراسٹرکچر کے نقصانات اور انسانی صورتحال بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق تمام کوششیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایک ایسا نتیجہ حاصل کیا جائے جو خطے میں دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکے۔

مزید پڑھیں :بڑی پیش رفت، ایران نے امریکی بحری جہازوں کو آبنا ئے ہر مز سے گزرنے کی اجازت دیدی

متعلقہ خبریں