اہم خبریں

جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، اس کے انسانی جانوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں،بلاول

اسلام آباد (اے بی این نیوز‌)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے اور یہ پیش رفت خطے میں مستقل امن کی طرف اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، کیونکہ اس کے انسانی جانوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ عالمی معیشت بھی شدید نقصان اٹھاتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں کسی نئے تنازع کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ موجودہ عالمی صورتحال پہلے ہی انتہائی نازک ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا کہ جاری تنازع سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو شدید جھٹکا لگنے کا خدشہ موجود تھا۔ ان کے مطابق جنگ بندی پر عمل درآمد میں وقت لگتا ہے، لیکن اصل فیصلہ اب عالمی برادری کے ہاتھ میں ہے کہ وہ امن کو آگے بڑھائے یا کشیدگی کو بڑھنے دے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کسی بڑی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، اس لیے تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ امن کے لیے مشترکہ طور پر آگے آئیں۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کسی بھی وقت خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے، اور اگر ایران میں جنگ بڑھی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

انہوں نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مزید کسی تنازع کا خواہاں نہیں اور علاقائی امن کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے جبکہ موجودہ معاشی صورتحال مزید جھٹکے برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ اصل مقصد نوبل انعام نہیں بلکہ پائیدار امن کا قیام ہے، اور بڑا تنازع روکنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے جنگ بندی کو مستقل امن کی طرف ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، چین، سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور خلیجی ممالک کی قیادت قابلِ تحسین ہے جن کی سفارتی کوششوں سے ماحول بہتر ہوا۔

ان کے مطابق دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنانے میں ان سفارتی کوششوں نے اہم کردار ادا کیا اور اسی وجہ سے مذاکرات کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا ہوا ہے، جو مستقبل میں خطے کے استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں :ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات کا آغاز،اسلام آباد عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گیا

متعلقہ خبریں