واشنگٹن ( اے بی این نیوز )وائٹ ہاؤس نے ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال سے متعلق گردش کرنے والی خبروں اور قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسا کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا گیا۔واشنگٹن سے جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جے ڈی وینس کے حالیہ بیان کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور اسے ایٹمی حملے سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کے مطابق نائب صدر کے الفاظ کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ امریکہ جوہری آپشن استعمال کرنے جا رہا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں فیصلے کا اختیار ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہے اور وہی بہتر جانتے ہیں کہ آگے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ایران کے پاس ایک محدود وقت موجود ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچے۔یاد رہے کہ جے ڈی وینس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں جنہیں ابھی استعمال نہیں کیا گیا، اور مقصد یہ ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے۔ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں جنہیں اب وائٹ ہاؤس نے مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ بعض ذرائع یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ ایران نے مذاکراتی عمل کو عارضی طور پر روک دیا ہے اور براہِ راست رابطے محدود کر دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں :اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اجلاس،روس اور چین نے بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو کر دیا















