تہران (اے بی این نیوز)ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد شہری وطن کے دفاع کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، جو ان کے بقول قومی عزم اور اتحاد کی واضح مثال ہے۔
صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ خود بھی ایسے افراد میں شامل ہیں جو ملک کے دفاع کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، اور موجودہ حالات میں قومی سلامتی کو ہر چیز پر مقدم رکھا جائے گا۔ ان کے اس بیان کو اندرونی سطح پر حوصلہ افزائی اور بیرونی دباؤ کے مقابلے میں استقامت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے عارضی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے تنازع کے مستقل حل، پابندیوں کے خاتمے اور حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے جیسے مطالبات سامنے رکھے ہیں۔ حکام کے مطابق کسی بھی معاہدے کے لیے بنیادی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے، ورنہ وقتی جنگ بندی کو حل نہیں سمجھا جا سکتا۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی تجاویز اور مؤقف سے متعلق پیغامات مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے منتقل کیے ہیں، جن میں پاکستان کا کردار بھی سامنے آیا ہے، جہاں ثالثی یا رابطہ کاری کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں :دشمن کے جبر کا جواب قومی طاقت سے دیا جائے گا،ایرانی نائب صدر















