تہران (اے بی این نیوز)بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے سینئر ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسے کسی فارمولے کو قبول کیا جائے گا جس میں سرنڈر یا یکطرفہ شرائط شامل ہوں۔ ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارتکاری اسی وقت آگے بڑھ سکتی ہے جب فریقین برابری کی بنیاد پر بات چیت کریں۔
گفتگو کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی شرط ایران کے لیے قابلِ قبول نہیں، اور جب تک اس نوعیت کا مطالبہ برقرار رہے گا، کسی بھی بامعنی پیش رفت کا امکان کم ہے۔ اسی تناظر میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی مؤقف سخت ہے اور اسے کھولنے سے انکار کیا گیا ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی پر اثرات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست روابط نہ ہونے کے باوجود ثالثی چینلز کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رہتا ہے۔ اس عمل میں پاکستان اور قطر جیسے ممالک کردار ادا کرتے رہے ہیں، جہاں قطر نے حالیہ پیغام امریکہ اور خطے تک پہنچایا۔حالات قابو سے باہر ہوگئے تو باب المندب بھی بند کردیا جا ئے گا،رائٹرز کا انکشاف
مزید کہا گیا کہ اگر ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتائج پورے خطے کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں اور توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی اشارہ دیا گیا کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اہم سمندری راستہ باب المندب بھی متاثر ہو سکتا ہے، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
مزید پڑھیں :سعودی عرب پر ممکنہ حملے کی صورت میں پاکستان کی غیر جانبدارانہ پالیسی برقرار رہنا مشکل ہو جائے گا، مسعود خان















