تہران ( اے بی این نیوز )خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاسدارانِ انقلاب کا سخت اور غیر معمولی بیان سامنے آیا ہے جس نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ تہران سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “تحمل کا وقت ختم ہو چکا ہے” اور اگر امریکہ نے سرخ لکیر عبور کی تو ردعمل صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو امریکہ اور اس کے شراکت دار برسوں تک تیل و گیس جیسے اہم وسائل سے محروم ہو سکتے ہیں۔ اس سخت لہجے نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اب تک ہمسایہ ممالک کے احترام میں تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور کسی بھی ممکنہ اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بیان میں امریکی قیادت پر بھی سخت تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ انہیں اپنے مفادات اور خطے میں موجود حساس تنصیبات کا اندازہ نہیں۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا کہ ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد ایرانی شہری وطن کے دفاع کے لیے تیار ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کے اندر بھی جنگی ماحول اور جذبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
مزید پڑھیں :پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا جس نے ایران پر حملےکی مذمت کی ،اسحاق ڈار















