اسلام آباد ( اے بی این نیوز )سینیٹ اجلاس کے دوران اسحاق ڈار نے ایران پر ہونے والے حالیہ حملے کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہ مدینہ منورہ میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی حملے کی اطلاع ملی، فوراً ہدایات جاری کیں کہ پاکستان اس اقدام کی واضح اور دوٹوک مذمت کرے۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا جس نے ایران پر حملے کی م ذمت کی اور اصولی مؤقف اپنایا۔ ان کے مطابق حملے کے کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ایران کے وزیر خارجہ سے براہ راست رابطہ بھی کیا تاکہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے اور یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی خطے کے دیگر قریبی ممالک پر بھی حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ صورتحال کس قدر تیزی سے بگڑ رہی تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
ایوان میں اظہار خیال کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ برادر اسلامی ممالک کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کے بیان نے سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کی، جہاں صارفین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس سے پاکستان کی سفارتی پوزیشن اور فوری ردعمل کی عکاسی ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں :فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس















