تہران ( اے بی این نیوز )ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم حکومتی عہدیدار کی جانب سے نوجوانوں، کھلاڑیوں، فنکاروں، طلبہ اور اساتذہ سے بجلی گھروں کے گرد انسانی زنجیر بنانے کی اپیل سامنے آئی ہے، جس نے سوشل میڈیا پر شدید توجہ حاصل کر لی ہے۔
نائب وزیر کھیل علی رضا رحیمی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ملک کے اہم بجلی گھر اور توانائی کے مراکز قومی اثاثہ ہیں، جن کے تحفظ کے لیے عوامی یکجہتی کا مظاہرہ ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ خیال خود نوجوانوں کی جانب سے پیش کیا گیا، جس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ عوام اپنے بنیادی انفراسٹرکچر کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔
انہوں نے اس مہم کو “روشن مستقبل کے لیے ایران کے نوجوانوں کی انسانی زنجیر” کا نام دیتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ منگل کو دوپہر 2 بجے مقامی وقت کے مطابق پاور پلانٹس کے قریب جمع ہوں اور علامتی طور پر انسانی زنجیر بنا کر اپنی حمایت کا اظہار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک احتجاجی یا علامتی اقدام نہیں بلکہ قومی یکجہتی، حوصلے اور مزاحمت کا پیغام ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت بیان دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا تو بڑے پیمانے پر حملے کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی اور دعویٰ کیا کہ ایسے حملے مختصر وقت میں اہم تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں : آزاد کشمیر حکومت کا ریاست بھر میں کاروباری اوقات کار محدود کرنے کا اہم فیصلہ















